
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سرد ہواؤں کے بعد درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں العین شہر کے شمال میں واقع راکنہ کے علاقے میں جمعہ کی علی الصبح ہلکی برفانی کہر دیکھی گئی۔ امارات فلکیاتی سوسائٹی کے رکن یوسف القاسمی کے مطابق یہ صورتحال متوقع تھی کیونکہ گزشتہ ایک ہفتے سے موسمی اشاریوں کی نگرانی کی جا رہی تھی۔
یوسف القاسمی نے بتایا کہ حالیہ موسمی نظام کے گزرنے کے بعد ٹھنڈی ہوائیں چلیں جس سے رات کے وقت درجہ حرارت میں تیزی سے کمی آئی۔ پیشگوئی کے مطابق لیوا اور الظفرہ جیسے مغربی علاقوں میں درجہ حرارت پانچ ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے چلا گیا، جبکہ تجربے کی بنیاد پر یہ اندازہ بھی لگایا گیا تھا کہ راکنہ کا علاقہ قریبی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ٹھنڈا ہوگا۔
سورج طلوع ہونے سے قبل یوسف القاسمی اور ان کے ساتھی راکنہ پہنچے جہاں زمینی مشاہدے کے دوران دیکھا گیا کہ اگرچہ سرکاری موسمی اسٹیشنز پر درجہ حرارت چار ڈگری کے قریب ریکارڈ ہوا، تاہم عملی پیمائش میں درجہ حرارت ایک ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پایا گیا۔ تیزی سے حرارت خارج کرنے والی سطحوں، جیسے دھاتی ڈھانچوں اور زرعی کورز پر برفانی کہر واضح طور پر نظر آئی۔
یوسف القاسمی کے مطابق العین میں تقریباً ہر سال برفانی کہر کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، تاہم اس کی شدت مختلف ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ہزار اکیس میں راکنہ میں سب سے شدید برفانی صورتحال دیکھی گئی تھی، جب زمینی پیمائش میں درجہ حرارت منفی سات ڈگری تک ریکارڈ ہوا، جبکہ سرکاری اسٹیشنز نے منفی دو ڈگری ظاہر کی تھی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ راکنہ کی ریتیلی زمین اور مخصوص ٹیلوں کے درمیان محل وقوع زمین سے حرارت کے تیزی سے اخراج کا سبب بنتا ہے، جس کی وجہ سے یہ علاقہ سورج طلوع ہونے سے قبل شدید سردی اور برفانی کہر کے لیے زیادہ حساس ہو جاتا ہے۔ اس موسم کی یہ پہلی برفانی کہر تھی جو طلوع آفتاب سے کچھ لمحے قبل سب سے زیادہ نمایاں رہی، جس کے بعد درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہوا۔
یوسف القاسمی نے کہا کہ آئندہ بھی سرد لہر کی صورت میں العین کے بعض علاقوں میں برفانی کہر پڑ سکتی ہے، تاہم یہ رجحان صرف سرد موسم کے مخصوص ادوار تک محدود رہتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ برفباری انتہائی نایاب ہے، لیکن شدید سرد لہروں کے دوران غیر معمولی موسمی مظاہر کا امکان موجود رہتا ہے، اسی لیے موسم سرما میں مسلسل مشاہدہ ضروری ہے۔







