
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں نیا سول قانون نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت قانونی بلوغت کی عمر اکیس قمری سال سے کم کر کے اٹھارہ گریگورین سال مقرر کر دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ملک میں سول معاملات کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آئے گی اور نوجوانوں کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ قانونی خودمختاری حاصل ہو گی۔
قانونی ماہر سمارا اقبال کے مطابق اس فیصلے کے بعد اٹھارہ سال کی عمر کو عالمی معیار کے مطابق مکمل قانونی اہلیت کی عمر تسلیم کر لیا گیا ہے، اور اب گریگورین کیلنڈر کو بنیاد بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق اٹھارہ سال کی عمر کے افراد کو مکمل قانونی صلاحیت حاصل ہو گی، جب تک کہ کسی عدالت کی جانب سے اس کے برعکس فیصلہ نہ دیا جائے۔
نئے قانون کے تحت اٹھارہ سال کے افراد اب خود مختار طور پر معاہدے کرنے، اپنے اثاثوں کا انتظام اور تصرف کرنے، اپنے نام سے مقدمات دائر کرنے یا ان کا سامنا کرنے اور مالی و قانونی فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس سے قبل اکیس قمری سال سے کم عمر افراد کو بیشتر قانونی معاملات میں نابالغ تصور کیا جاتا تھا اور سرپرست یا عدالت کی اجازت درکار ہوتی تھی۔
قانون میں قمری سے گریگورین نظام کی تبدیلی کو عالمی معیارات سے ہم آہنگی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ قمری سال کے کم دن ہونے کی وجہ سے عمر کے تعین میں ابہام پیدا ہوتا تھا۔ گریگورین نظام پاسپورٹس، پیدائشی اسناد اور بین الاقوامی معاہدات سے مطابقت رکھتا ہے، جس سے سرحد پار قانونی معاملات میں آسانی ہو گی۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ فیصلہ نوجوانوں کو خود مختاری دیتا ہے، تاہم اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اٹھارہ سال کی عمر میں بعض افراد مالی یا قانونی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے، جس سے غلط فیصلوں، دھوکہ دہی یا تنازعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
قانون میں حفاظتی پہلو بھی شامل رکھے گئے ہیں، جس کے تحت عدالتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ نااہلی، بدانتظامی یا استحصال کی صورت میں مداخلت کر سکیں، خصوصاً بڑے مالی معاملات میں۔ ماہرین کے مطابق اس تبدیلی کے بعد خاندانوں کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ بچوں کو کم عمری ہی سے مالی شعور دیں اور جائیداد و اثاثوں سے متعلق منصوبہ بندی کریں، کیونکہ اٹھارہ سال کے بعد بچے کئی معاملات میں قانونی طور پر خود فیصلے کر سکیں گے۔







