
خلیج اردو
ابوظبی کے رہائشی سعید الجنابی کے لیے وہ لمحہ ناقابلِ فراموش ہے جب انہوں نے اپنی نومولود بیٹی مالیا میں غیر معمولی علامات دیکھیں۔ صرف دو ماہ کی عمر میں مالیا کو جھٹکے آنا شروع ہوئے اور اس کی نشوونما دوسرے بچوں سے مختلف محسوس ہونے لگی۔ طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے ایک ایسا تشخیص بتایا جس سے ہر والدین خوفزدہ ہو جاتے ہیں، اسپائنل مسکیولر ایٹروفی، جو ایک نایاب اور جان لیوا جینیاتی بیماری ہے۔
اس تشخیص کے ساتھ ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے آئی۔ بیماری کا مؤثر علاج موجود تھا، جسے زولجینسما جین تھراپی کہا جاتا ہے، مگر اس کی قیمت خاندان کی مالی استطاعت سے کہیں زیادہ تھی۔ سعید الجنابی کے مطابق یہ جاننا کہ علاج موجود ہے لیکن مالی وسائل کی کمی کے باعث ممکن نہیں، ان کے لیے جذباتی طور پر توڑ دینے والا لمحہ تھا۔
یہ صورتحال اس وقت بدلی جب مالیا کا کیس ابوظبی کی لائف انڈومنٹ مہم کے تحت منظور ہوا، جو اوقاف ابوظبی اور محکمہ صحت ابوظبی کے اشتراک سے شروع کی گئی ایک پائیدار مالی معاونت کی کاوش ہے، جس کا مقصد انتہائی نازک اور ہنگامی طبی کیسز کی مدد کرنا ہے۔ حال ہی میں اس مہم کے تحت حاصل ہونے والی آمدن اور عطیات سے تقریباً 140 مریضوں کے علاج کا آغاز کیا گیا، جن میں مالیا بھی شامل تھی۔
مالیا کے والد کا کہنا ہے کہ جب انہیں بتایا گیا کہ بیٹی کے علاج کے اخراجات پورے کیے جائیں گے تو یہ ان کی زندگی کے سب سے جذباتی لمحات میں سے ایک تھا۔ ان کے مطابق اس سے پہلے سب کچھ غیر یقینی تھا، بیماری کا علم تھا، علاج کا علم تھا، مگر لاگت ناقابلِ برداشت تھی۔ منظوری کی خبر ایسے وقت آئی جب ہر لمحہ قیمتی محسوس ہو رہا تھا۔
علاج کی منظوری کے بعد مالیا کو زولجینسما انجیکشن دیا گیا، جس کے بعد ڈاکٹروں کو ایک واضح اور بلا تعطل علاجی منصوبہ بنانے کا موقع ملا۔ سعید الجنابی کے مطابق اس لمحے کے بعد خاندان کی تمام توجہ خوف سے نکل کر بیٹی کی دیکھ بھال اور بحالی پر مرکوز ہو گئی۔
مالی معاونت سے قبل خاندان کی روزمرہ زندگی خوف، دباؤ اور غیر یقینی کیفیت میں گزرتی تھی، مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔ اگرچہ مالیا کو اب بھی طبی نگرانی اور فالو اپ کی ضرورت ہے، تاہم والد کے مطابق وہ اب سروائیول موڈ میں نہیں جی رہے۔ مستقبل کے بارے میں سوچنا، منصوبہ بنانا اور امید رکھنا اب ممکن ہو چکا ہے۔
مالیا کے علاج کے دوران ایک لمحہ ایسا بھی آیا جو سعید الجنابی کے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا، جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ جین تھراپی کامیابی سے دی جا چکی ہے اور اب اس کے جسم کو بیماری سے لڑنے کا موقع مل گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی پراعتماد گفتگو نے انہیں وہ اطمینان دیا جو تشخیص کے بعد کبھی محسوس نہیں ہوا تھا۔
سعید الجنابی کے مطابق یہ مدد محض خیرات نہیں تھی بلکہ بروقت زندگی بچانے والا سہارا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاونت نے طبی فیصلوں کو مالی استطاعت کے بجائے حقیقی ضرورت کی بنیاد پر ممکن بنایا اور وہ بوجھ ہٹا دیا جو کسی بھی والدین کو تنہا نہیں اٹھانا چاہیے۔ ان کے الفاظ میں، جب آپ ایک بچے کی مدد کرتے ہیں تو دراصل ایک پورے خاندان کو سہارا دیتے ہیں۔







