متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں نیا قانون، وصیت نہ ہونے کی صورت میں جائیداد اور بچوں کا فیصلہ عدالت کرے گی

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں سول ٹرانزیکشنز قانون میں حالیہ بڑی اصلاحات کے بعد قانونی ماہرین نے مقیم افراد کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ ملک میں اپنی وصیت تحریر کر کے باقاعدہ رجسٹر کروائیں، تاکہ کسی اچانک صورتحال میں ان کے اہلِ خانہ قانونی اور مالی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ماہرین کے مطابق وصیت صرف جائیداد ہی نہیں بلکہ بینک اکاؤنٹس، زیورات، گاڑیاں، سرمایہ کاری اور سب سے بڑھ کر بچوں کی سرپرستی جیسے اہم معاملات کا احاطہ کرتی ہے۔

جسٹ وِلز کنسلٹنٹ کے سی ای او محمد ماریہ کے مطابق وصیت دراصل انسان کی وہ آواز ہے جو اس کے بعد بھی سنی جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ موت کے خیال سے خوفزدہ ہو کر وصیت بنانے سے گریز کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وصیت اہلِ خانہ کے لیے مشکل وقت کو آسان بنا دیتی ہے اور اثاثوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بچوں کی سرپرستی کا فیصلہ بھی خود والدین کر سکتے ہیں۔

بی ایس اے لا کے ایسوسی ایٹ سائم خان کے مطابق وصیت رجسٹر نہ ہونے کی صورت میں سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی فرد کی وفات کے بعد یو اے ای میں بینک اکاؤنٹس، حتیٰ کہ مشترکہ اکاؤنٹس بھی، عدالتی حکم تک منجمد ہو جاتے ہیں، اور یہ عمل ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہو سکتا ہے۔ اس دوران اثاثوں کی تقسیم ایسے خودکار قوانین کے تحت ہو سکتی ہے جو مرحوم کی خواہشات کے برعکس ہوں، جبکہ نابالغ بچوں کی سرپرستی عدالت کے عبوری فیصلوں کے تحت طے پاتی ہے۔

موجودہ قانون کے مطابق اگر کوئی غیر مسلم شہری بغیر وصیت کے انتقال کر جائے تو اس کی جائیداد زندہ شریکِ حیات اور بچوں میں برابر تقسیم کی جاتی ہے، جبکہ ان کی عدم موجودگی میں والدین یا بہن بھائی وارث قرار پاتے ہیں۔ حالیہ قانون کے تحت یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اگر کسی غیر ملکی کے یو اے ای میں موجود مالی اثاثے ہوں اور کوئی وارث نہ ہو تو وہ اثاثے فلاحی وقف کے طور پر استعمال کیے جائیں گے، جس کی نگرانی متعلقہ ادارہ کرے گا۔ مسلمانوں کے لیے جائیداد کی تقسیم شریعت کے مطابق ہی کی جاتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق بیرونِ ملک تیار کی گئی وصیت پر انحصار بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے، کیونکہ ایسی وصیت کو قانونی توثیق، عربی ترجمے اور مقامی عدالتوں کی جانچ کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس یو اے ای میں رجسٹرڈ وصیت کے لیے پراسیس زیادہ واضح اور تیز ہوتا ہے۔

یو اے ای میں وصیت رجسٹر کرانے کے لیے مختلف پلیٹ فارمز موجود ہیں، جن میں ڈی آئی ایف سی وِلز سروس سینٹر، ابوظبی جوڈیشل ڈیپارٹمنٹ اور دبئی کورٹس کا نوٹری سسٹم شامل ہیں۔ ہر نظام کا طریقۂ کار، زبان اور لاگت مختلف ہے، تاہم تینوں قانونی طور پر قابلِ نفاذ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر مسلم افراد اپنی وصیت میں واضح طور پر یہ درج کریں کہ جائیداد کی تقسیم یو اے ای کے قانون کے تحت ہو گی یا اپنے آبائی ملک کے قانون کے مطابق، خاص طور پر جب ملک میں جائیداد موجود ہو۔

قانونی ماہرین کے مطابق ایک جامع اور مقامی طور پر رجسٹرڈ وصیت نہ صرف تاخیر، اثاثوں کے منجمد ہونے اور قانونی تنازعات سے بچاتی ہے بلکہ والدین کو یہ اطمینان بھی دیتی ہے کہ ان کے بعد ان کے بچوں اور اہلِ خانہ کے معاملات ان کی خواہشات کے مطابق طے پائیں گے، اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ قانونی اصلاحات کے بعد وصیت کو محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button