
خلیج اردو
سینیٹر فیصل واوڈا نے رانا ثناء اللہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ
"رانا ثناء اللہ ہوا میں تیر نہ چلائیں، سیاسی باریک وارداتیں اب پرانی ہوگئیں، کچھ نیا سوچیں۔”
انہوں نے مشیر وزیراعظم کے دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی کو دو بار ڈیل کی آفر کی گئی لیکن انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ فیصل واوڈا نے کہا:
"رانا ثناء اللہ بتائیں، کب، کہاں، اور کیسے ڈیل کی بات ہوئی؟ یہ وہ ڈیل ہے جو صرف آپ لوگوں کے تصورات میں ہے۔ آپ کو ہی پتہ ہے؟ آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ اُس نے بقول آپ کے ڈیل نہیں مانی۔”
واوڈا نے مزید کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی نے یہ مبینہ ڈیل قبول کرلی ہوتی تو انہیں سیاستدانوں کے پیچھے آنا پڑتا، لیکن بانی کسی اور کے پیچھے نہیں جائیں گے، اور نہ ہی کسی میں اتنی ہمت ہے کہ وہ انہیں پیچھے لے جائے۔
یہ بیان پاکستان کی موجودہ سیاسی کشمکش میں ڈیل کے دعووں اور حقیقت کے درمیان اختلاف کو اجاگر کرتا ہے۔






