
خلیج اردو
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ بہت جلد ختم ہو سکتی ہے اور امریکی افواج مقررہ ٹائم لائن سے بھی آگے چل رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک ایران کے پانچ ہزار سے زائد فوجی اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور ایران کی عسکری طاقت کو وقت سے پہلے شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی بحریہ کے اہم اثاثے اور ہزاروں میزائل تباہ کر دیے گئے ہیں جبکہ بغیر پائلٹ طیارے بنانے والے مراکز کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا گیا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکی کارروائیوں کے بعد ایران کے بغیر پائلٹ طیاروں کے حملوں میں تقریباً 83 فیصد اور میزائل حملوں میں 90 فیصد تک کمی آ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ بروقت کارروائی نہ کرتا تو ایران اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک پر حملہ کر سکتا تھا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو امریکہ سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر ایران نے ایسا کھیل کھیلا تو ہم ایسی تباہی کریں گے کہ وہ دوبارہ سنبھل نہیں سکے گا۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم رکھنے کے لیے امریکہ بعض پابندیوں میں نرمی کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ توانائی کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
امریکی صدر نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی قیادت مزید مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جنگ عملی طور پر جیتی جا چکی ہے، صرف یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایران اپنی شکست کب تسلیم کرتا ہے۔
فلوریڈا میں کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم ضرورت پڑنے پر ہر آپشن موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا تو صورتحال کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم عرب ممالک نے خود کو اس تنازع میں غیر جانبدار رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملے کے واقعے کی تحقیقات بھی جاری ہیں اور اس معاملے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق امریکی صدر کے یہ بیانات خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور ایران کی نئی قیادت کے ساتھ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے۔







