
خلیج اردو
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے شہر قم میں ایک اہم فوجی تنصیب کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جسے ایران کی دفاعی صلاحیت کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکی فورسز نے قم میں واقع ٹربائن انجن پروڈکشن پلانٹ پر حملہ کیا، جہاں پاسدارانِ انقلاب کے لیے ڈرونز اور طیاروں کے گیس ٹربائن انجن تیار کیے جاتے تھے۔
سینٹکام کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر حملے سے قبل اور بعد کی تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر تنصیب کو پہنچنے والی شدید تباہی دیکھی جا سکتی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنے اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کی گئی ہے۔
دوسری جانب اس حملے کے بعد خطے میں مزید تناؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل پر بھی عالمی سطح پر نظریں مرکوز ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے حملے نہ صرف جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کر سکتے ہیں بلکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔





