عالمی خبریں

ٹرمپ کا یوٹرن، ایران سے خفیہ رابطوں کا دعویٰ، پاکستان سمیت کئی ممالک ثالثی میں متحرک,سی این این رپورٹ

خلیج اردو
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے اپنے مؤقف میں اچانک تبدیلی کرتے ہوئے مذاکرات اور ممکنہ جنگ بندی کی بات شروع کر دی ہے، حالانکہ چند روز قبل وہ جنگ جاری رکھنے کے حامی تھے۔

سی این این کے مطابق گزشتہ ہفتے جب ٹرمپ واشنگٹن سے فلوریڈا روانہ ہو رہے تھے تو انہوں نے واضح کہا تھا، “جب آپ مخالف کو مکمل تباہ کر رہے ہوں تو جنگ بندی نہیں کی جاتی”، تاہم صرف تین دن بعد انہوں نے موقف بدلتے ہوئے کہا، “وہ سمجھوتہ چاہتے ہیں اور ہم اسے مکمل کریں گے۔”

رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم دیا اور بصورت دیگر ایرانی بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی، لیکن بعد میں مذاکرات کی بات شروع ہو گئی۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ایک “باوقار” عہدیدار سے رابطے ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے اس شخصیت کا نام ظاہر نہیں کیا، جس سے اس دعوے پر شکوک پیدا ہوئے۔

دوسری جانب ایران نے ان مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے، جہاں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ “امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے”، اور دعویٰ کیا کہ امریکہ ایرانی ردعمل کے خوف سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

سی این این کے مطابق اگرچہ ایران نے مذاکرات کی تردید کی، تاہم اس نے یہ واضح طور پر نہیں کہا کہ پسِ پردہ پیغامات کا تبادلہ نہیں ہوا، جس سے سفارتی رابطوں کے امکانات برقرار رہتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان، ترکی، مصر اور عمان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہیں، جبکہ ان ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکہ نے ایران کو 15 نکات پر مشتمل ایک تجویز بھی بھیجی ہے، جس میں جوہری ہتھیار نہ بنانے، افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے، دفاعی صلاحیت محدود کرنے، پراکسی گروپس کی حمایت ختم کرنے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

سی این این کے مطابق کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان نکات میں سے کئی ایران کے لیے “ناقابل قبول” ہو سکتے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق یہ وہی شرائط ہیں جو گزشتہ سال بھی پیش کی گئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور اگر دونوں فریق متفق ہوں تو مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جبکہ پاکستان کی ایران کے ساتھ سرحدی اور توانائی روابط کے باعث اس کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے انٹیلی جنس چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ رابطوں میں شامل ہیں۔

سی این این کے مطابق عمان بھی آبنائے ہرمز کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات پہنچا رہا ہے، جبکہ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے رابطے کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے بھی تصدیق کی کہ انہیں ان سفارتی کوششوں کا علم ہے، جبکہ امریکہ نے اسرائیل کو بھی ان پیش رفت سے آگاہ رکھا ہے اور بنیامین نیتن یاہو سے رابطے کیے گئے۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکہ ایران کے افزودہ یورینیم پر کنٹرول چاہتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے کے خلیجی ممالک نے امریکہ کو خبردار کیا کہ ایران کے بجلی گھروں پر حملے سے کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے، جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی میں امریکی اتحادیوں کے توانائی اور پانی کے منصوبوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔

سی این این کے مطابق آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس تنازع کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے، اور اسے کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں، تاہم ابھی تک کوئی باضابطہ اور براہِ راست مذاکرات شروع نہیں ہوئے اور صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ نے کہا، “میری پوری زندگی مذاکرات پر گزری ہے، اور اس بار ایران سنجیدہ نظر آتا ہے”، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے طویل اور پیچیدہ سفارتی عمل درکار ہوگا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button