
خلیج اردو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک اور قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے، وائٹ ہاؤس سے ملحقہ ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں ڈنر کے دوران اچانک فائرنگ سے ایک پولیس افسر زخمی ہوگیا۔
تقریب میں خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، کابینہ ارکان سمیت تقریباً دو ہزار چھ سو افراد شریک تھے، جب اچانک فائرنگ کی آواز سے ہال میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ذرائع کے مطابق تقریب کے آغاز میں صدر ٹرمپ کو ایک پرچی دکھائی گئی جس پر ان کے قریب بیٹھی خاتون حیرت زدہ رہ گئی، اسی دوران فائرنگ شروع ہوگئی اور شرکا فوری طور پر نشستوں سے نیچے اتر گئے۔
ویڈیو میں دیکھا گیا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر جنگ بھی ہال سے باہر نکل گئے جبکہ کئی افراد نے میزوں کے نیچے چھپ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔
سیکرٹ سروس فوری طور پر متحرک ہوئی، سکیورٹی اہلکاروں نے اسلحہ سنبھال لیا اور حملہ آور کو زمین پر گرا کر گرفتار کرلیا، تاہم حملہ آور سکیورٹی حصار توڑنے میں کیسے کامیاب ہوا اس پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ کو باہر منتقل کرتے وقت وہ لڑکھڑا بھی گئے، تاہم وہ مکمل طور پر محفوظ رہے، جبکہ تقریب میں انہیں خطاب بھی کرنا تھا۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اعلیٰ سطحی تقریبات میں سکیورٹی انتظامات پر سنگین خدشات کو اجاگر کرتا ہے اور مستقبل میں مزید سخت اقدامات کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔





