Uncategorized

فلپائن کی منشیات جنگ میں معصوم بچوں کی ہلاکتیں، روڈریگو دوتیرتے اور ساتھیوں پر انسانیت کیخلاف جرائم کے الزامات سنگین ہوگئے

خلیج اردو
فلپائن کے سابق صدر روڈریگو دوتیرتے اور ان کے قریبی ساتھی سینیٹر رونالڈ ‘باٹو’ ڈیلا روزا کو عالمی فوجداری عدالت میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کا سامنا ہے۔ فلپائن کی سپریم کورٹ نے ڈیلا روزا کی گرفتاری روکنے کی اپیل مسترد کر دی جبکہ حکام نے اعلان کیا ہے کہ انہیں “بلا تاخیر” گرفتار کیا جائے گا۔

عالمی فوجداری عدالت میں زیرِ سماعت مقدمات کا تعلق “ٹوکھانگ” نامی انسدادِ منشیات مہم سے ہے، جس کے دوران ہزاروں افراد مارے گئے۔ انسانی حقوق تنظیموں کے مطابق اس کارروائی میں تقریباً 30 ہزار مشتبہ افراد جان سے گئے جبکہ متعدد بچے بھی نشانہ بنے یا فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق تین سالہ مائیکا الپینا پولیس کارروائی میں سر پر گولی لگنے سے ہلاک ہونے والی کم عمر ترین بچی تھی۔ چار سالہ اسکائلر اباتایو، التھیا باربون اور پانچ سالہ ڈینیکا مے گارشیا بھی مبینہ پولیس فائرنگ میں مارے گئے۔ کئی واقعات میں اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ اور طاقت کے غیر ضروری استعمال کے الزامات لگائے گئے۔

سترہ سالہ کیان لوئیڈ ڈی لوس سانتوس کا قتل اس مہم کا سب سے معروف واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔ سکیورٹی کیمروں میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکار اسے گھسیٹ کر لے گئے، بعد ازاں اسے گولی مار دی گئی۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس نے “جوابی مزاحمت” کی تھی، تاہم عالمی ردعمل کے بعد بعض اہلکاروں کو سزا سنائی گئی۔

انیس سالہ کارل اینجلو آرنائز اور چودہ سالہ رینالڈو ڈی گزمین کے قتل نے بھی ملک بھر میں غم و غصہ پھیلایا۔ فرانزک رپورٹس کے مطابق دونوں پر تشدد کیا گیا اور بعد ازاں قتل کیا گیا۔

عالمی فوجداری عدالت کے مطابق یہ قتل “وسیع پیمانے پر، منظم انداز میں اور شہری آبادی کے خلاف” کیے گئے، اس لیے انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے دائرے میں شامل کیا گیا۔ دوتیرتے اس وقت دی ہیگ میں قید ہیں جبکہ ان کے حامی ان کارروائیوں کو سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور ان معصوم بچوں کی ہلاکتیں فلپائن کی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شمار کی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button