Uncategorized

یو اے ای میں پالتو جانوروں کو چھوڑنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ، ریسکیو کارکنوں کا سخت انتباہ

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات میں پالتو جانوروں کو لاوارث چھوڑنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس پر جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں اور ریسکیو کارکنوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ریسکیو ادارے "ریسکیو می” کی بانی کلیئر ہاپکن کے مطابق بہت سے لوگ جذباتی فیصلوں کے تحت پالتو جانور خرید لیتے ہیں، مگر بعد میں اخراجات، وقت اور ذمہ داریوں کا بوجھ برداشت نہ کر پانے کی وجہ سے انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔

کلیئر ہاپکن نے بتایا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں کتوں، بلیوں اور خرگوشوں کو نئے گھر فراہم کرنے کے لیے مختلف ریسکیو گروپوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، تاہم بے سہارا جانوروں کی بڑھتی تعداد ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

سربیا سے تعلق رکھنے والی اینڈریا پیٹرووچ، جو جانوروں کی فلاح کے شعبے سے وابستہ ہیں، کا کہنا ہے کہ پالتو جانور کوئی وقتی مشغلہ یا فیشن کی چیز نہیں بلکہ ایک طویل المدتی ذمہ داری ہیں۔ ان کے مطابق ایک پالتو جانور کی دیکھ بھال کئی برسوں تک مسلسل توجہ، وقت اور مالی وسائل کا تقاضا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے افراد جانور گود لینے یا خریدنے سے پہلے ذہنی، جذباتی اور مالی طور پر تیار نہیں ہوتے، جس کے نتیجے میں بعد ازاں جانوروں کو ترک کر دیا جاتا ہے۔

ریسکیو کارکنوں کے مطابق لاوارث جانور صحراؤں، رہائشی علاقوں، ویٹرنری کلینکس اور بعض اوقات کچرے کے ڈبوں کے قریب بھی ملتے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

کلیئر ہاپکن نے کہا کہ جانوروں کی دیکھ بھال کے اخراجات، خوراک، طبی علاج اور پناہ گاہوں کے بڑھتے ہوئے خرچے ریسکیو اداروں کے لیے مسلسل مالی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے غیر قانونی افزائش نسل کے کاروبار کو بھی بحران کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں پہلے ہی بڑی تعداد میں جانور گھروں کے منتظر ہیں، اس کے باوجود نئے جانوروں کی افزائش جاری ہے۔

ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جانوروں کو چھوڑنے والوں پر جرمانے عائد کیے جائیں، افزائش نسل کے مراکز اور پالتو جانوروں کی دکانوں کی نگرانی سخت کی جائے اور جانور گود لینے سے پہلے مؤثر جانچ کا نظام متعارف کرایا جائے۔

ریسکیو کارکنوں کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر خوبصورت تصاویر دیکھ کر یا تحفے کے طور پر جانور خریدنے کا رجحان بھی اس مسئلے کو بڑھا رہا ہے، جبکہ لوگ اس کے ساتھ جڑی ذمہ داریوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جانور خریدنے کے بجائے انہیں گود لینے کو ترجیح دیں تاکہ پناہ گاہوں پر بڑھتے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

ریسکیو اداروں کے مطابق جانور اپنی قسمت کا انتخاب نہیں کرتے، بلکہ انسانی فیصلوں کے نتائج بھگتتے ہیں، اسی لیے عوامی شعور، ذمہ دارانہ رویوں اور مؤثر قوانین کی فوری ضرورت ہے۔

مختصر خلاصہ: یو اے ای میں پالتو جانوروں کو چھوڑنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں، ریسکیو کارکنوں نے عوام سے ذمہ دارانہ رویہ اپنانے اور جانور گود لینے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button