Uncategorized

خلیج عمان میں بھارتی ملاحوں والے تین آئل ٹینکروں پر حملے، نئی علاقائی کشیدگی نے سمندری سلامتی پر سوالات اٹھا دیے

خلیج اردو

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے باوجود بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خلیج عمان میں بھارتی عملے والے تین آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد سمندری سلامتی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران تین مختلف آئل ٹینکروں کو امریکی افواج نے نشانہ بنایا۔ امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ جہاز ایران سے متعلق عائد کردہ بحری پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

10 جون کو پالاؤ کے پرچم بردار آئل ٹینکر "ایم ٹی سیٹیبیلو” پر حملے میں 28 افراد سوار تھے جن میں 24 بھارتی، 2 پاکستانی، ایک روسی اور ایک یوکرینی شہری شامل تھا۔ حملے کے نتیجے میں تین بھارتی ملاح جان کی بازی ہار گئے جبکہ 21 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا۔

8 جون کو "ایم ٹی میری ویکس” نامی آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا جس پر 24 بھارتی ملاح موجود تھے۔ بھارتی حکام کے مطابق تمام عملے کو عمانی بحریہ نے بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

11 جون کو "ایم ٹی جالویر” کے انجن روم پر میزائل داغے گئے۔ اس جہاز پر سوار 20 افراد محفوظ رہے اور ان کے انخلا کے لیے عمانی حکام اور بحریہ نے کارروائی کی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ تینوں جہازوں نے امریکی افواج کی ہدایات پر عمل نہیں کیا، جس کے بعد ان کے انجن یا آپریشنل نظام کو نشانہ بنا کر انہیں "غیر فعال” کیا گیا۔

امریکہ کے مطابق 13 اپریل سے نافذ بحری پابندیوں کے بعد اب تک 9 ایسے جہازوں کو روکا جا چکا ہے جو احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے، جبکہ 135 جہازوں نے ہدایات مانتے ہوئے اپنا راستہ تبدیل کیا۔

دوسری جانب بھارت نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے نئی دہلی میں امریکی ناظم الامور کو طلب کیا اور شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ "یہ حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔”

ماہرین کے مطابق خلیج عمان عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، اور ایسے واقعات نہ صرف بحری تجارت بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

مختصر خلاصہ: خلیج عمان میں بھارتی عملے والے تین آئل ٹینکروں پر حملوں میں تین بھارتی ملاح ہلاک ہوئے، جبکہ بھارت نے امریکہ کے سامنے شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button