Uncategorized

فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کپتان سمت مچھر کا خاندان شدید جذباتی کیفیت سے گزر رہا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

فلائی دبئی کی پرواز میں پیش آنے والے واقعے کے بعد کپتان سمت مچھر کا خاندان شدید جذباتی کیفیت سے گزر رہا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
خلیج اردو
بھارتی میڈیا سے گفتگو میں کپتان کی اہلیہ سونل مچھر نے بتایا کہ ابتدائی طور پر وہ شدید صدمے میں تھیں اور انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ردعمل دیں، تاہم بعد میں حکام نے شوہر کی حالت مستحکم ہونے کی اطلاع دی تو انہیں کچھ اطمینان ہوا۔

کپتان سمت کو اس وقت شدید زخمی کردیا گیا جب ان کے شریک پائلٹ نے مبینہ طور پر طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔ متحدہ عرب امارات نے واقعے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔ کپتان پر کاک پٹ میں موجود کریش ایکس سے حملہ کیا گیا، جو ہنگامی حالات میں دروازے یا پینل توڑنے کے لیے حفاظتی آلے کے طور پر رکھا جاتا ہے۔

واقعے کے بعد طیارے کا رخ موڑ کر سعودی عرب میں اتارا گیا، جہاں کپتان سمت کا آپریشن کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں مزید طبی علاج کے لیے متحدہ عرب امارات منتقل کردیا گیا۔ ہفتے کے روز دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے ہسپتال میں کپتان سمت سے ملاقات کی اور بعد میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ متحدہ عرب امارات کو فخر ہے کہ سمت ان کی ٹیم اور ملک کی کہانی کا حصہ ہیں۔

کپتان کے سسر جے سکھ جوگی نے کہا کہ سمت کا زندہ بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔ ان کے مطابق طیارے کا فضا میں ہونے والی کشمکش کے باوجود بحفاظت اترنا بظاہر ناقابل یقین تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ افراد نے کپتان کی مدد کی اور انہوں نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا، جس کے بعد تقریباً تین منٹ میں صورتحال قابو میں آگئی۔

جے سکھ جوگی نے واقعے کے بعد گزرنے والے پریشان کن وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کی بیٹی سونل پوری رات سو نہیں سکے۔ انہیں کپتان سے بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی تھی، تاہم جب انہیں معلوم ہوا کہ سمت کی حالت مستحکم ہے تو خاندان نے سکون کا سانس لیا۔

انہوں نے بتایا کہ کپتان کے سر اور ہاتھ پر چوٹیں آئیں جبکہ ہاتھ میں فریکچر بھی ہوا۔ جسم کے مختلف حصوں پر کٹ لگنے کے باعث کئی جگہ ٹانکے بھی آئے، تاہم اب ان کی حالت مستحکم ہے۔

کپتان کے برادر نسبتی انکت جوگی نے کہا کہ خاندان کو سمت کی کارکردگی پر بے حد فخر ہے۔ ان کے مطابق کپتان کے پاس کارروائی کے لیے انتہائی کم وقت اور محدود مواقع تھے، لیکن انہوں نے اس مختصر وقت میں جو کچھ کیا وہ قابل فخر ہے۔

انکت جوگی نے بتایا کہ سمت نے ہمیشہ اپنے کام کو ترجیح دی اور حفاظتی ضابطوں کی سختی سے پابندی کی، جس کے باعث خاندان کا خیال ہے کہ مشکل ترین صورتحال میں بھی انہوں نے غیر معمولی انداز میں اپنے فرائض انجام دیے۔

بھارت میں موجود خاندان کے دیگر افراد اب کپتان سمت کی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ پورا ملک ان کی واپسی کا انتظار کررہا ہے تاکہ ان کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرکے شاندار استقبال کیا جاسکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button