خیلج اردو
29 ستمبر 2020
پرسٹن : پرندے اور جانور ماحول دوست افراد کو بے حد پسند ہوتے ہیں۔ ان کی شرارتیں ، اٹھکیلیاں سب کو بھاتے ہیں۔ پرندوں میں اکثر طوطوں کو ان کی بولی کی وجہ سے پسند کیا جاتا ہے۔ لیکن شائر لنکن میں طوطوں کو ان کی شرارتیں مہنگی پڑ گئیں۔
خبررساں ادارے دی انٹدیپنڈنٹ کے مطابق شمالی مشرقی انگلینڈ میں واقعہ لنکن شائر کے نیشنل وائلڈ لائف پارک میں لائے گئے طوطوں کو سیاحوں کو دی جانے والی گالیاں کے سبب عوامی مقامات سے ہٹا دیا گیا ہے۔
بظاہر شرارتی مگر بدمعاش پرندے لنکن شائر وائلڈ لائف پارک میں 15 اگست کو لائے گئے تھے۔ پارک کے چیف ایگزیکٹو سٹیو نکولس کے مطابق ان طوطوں نے قرنطینہ کے دوران ایک دوسرے سے فحش گالیاں سیکھیں۔ اسٹاف ان گالیوں پر ہنستا رہا جس سے ان پانچ افریقی طوطوں کو حوصلہ ملا اور وہ سیاحوں پر گالیاں بکنے سے باز نہ رہے۔
مسٹر نکولس نے بتایا کہ یہ جتنی گالیاں دیتے تھے عام طور پر ان پر اتنا ہنسا جاتا تھا جس کی وجہ سے یہ مزید گالیاں دیتے رہے لیکن جب چار یا پانچ طوطوں کو ایک جگہ رکھا گیا تو انہوں نے گالیاں دینا اور قہقہے لگانا سیکھ لیا۔ یہ معمر افراد کے ورکنگ کلب جیسا ہے جہاں سب ہنستے رہتے ہیں اور گالیاں دیتے رہتے ہیں۔ اگرچہ سیاحوں نے اس چیز کو مزاحیہ انداز میں لیا ہے لیکن پارک انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ گالیاں دینے والے پرندوں کو عوامی مقام سے ہٹا دیا جائے گا کیونکہ ویک اینڈ آ رہا ہے اور پارک میں بچے موجود ہو سکتے ہیں جن کی موجودگی میں یہ غیر موزوں بات ہو گی۔۔
نکولس کا کہنا ہے کہ یہ پرندے اب پارک کے اندر ہی آف شور انکلوژر میں منتقل کر دیے گئے ہیں جہاں ان کے ساتھ مزید طوطے بھی موجود ہیں ہمیں امید ہے کہ باقی طوطوں کی موجودگی ان پرندوں پر مثبت اثر ڈالے گی۔ پارک میں لگ بھگ 1500 طوطے موجود ہیں۔
Source : The Independent







