خلیج اردو آن لائن:
بھارت ، بابری مسجد انہدام کیس میں بدھ کے روز تمام ملزمان کو خصوصی سی بی آئی عدالت نے بری کر دیا۔
بابری مسجد کو گرائے جانے کے حوالے سے مقدمے کا فیصلہ آج سنایا گیا، جس میں عدالت کا کہنا ہے کہ مسجد کو گرانے کا منصوبہ بندی پہلے سے نہیں کی گئی تھی۔
آج صبح 32 ملزمان میں 26 فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں موجود تھے، جبکہ بی جے پی کے سینئر رہنما ایل کے ایڈوانی ویڈیو لنک کے زریعے حصہ لیا۔
Senior BJP Leader LK Advani Ji Joining The Court Via Video Conference. #BabriDemolitionCase pic.twitter.com/qHavDHbH5z
— Pradeep Raturi (@pradeepraturig) September 30, 2020
بابری مسجد کو گرائے جانے میں ملوث 49 ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے مسجد کو ایک منصوبہ بندی کے تحت گرایا۔ ان 49 ملزمان میں 17 وفات پا چکے ہیں۔ اس لیے عدالت کی جانب سے باقی بچ جانے والے 32 ملزمان کے حوالے سے فیصلہ سنایا ہے۔
فیصلہ:
عدالت کے کہنا ہے کہ بابری مسجد کو گرائے جانے کی پہلے سے منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی:
سی بی آئی کے جج ایس کے یادیو نے 2 ہزار صفحوں پر مشتمل فیصلہ پڑھنا شروع کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان کے خلاف دیے گئے ثبوت مظبوط نہیں ہیں، اور بابری مسجد کا گرائے جانے کی پہلے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔
All accused in Babri Masjid demolition case acquitted by Special CBI Court in Lucknow, Uttar Pradesh. pic.twitter.com/9jbFZAVstH
— ANI (@ANI) September 30, 2020
ایل کے ایڈوانی اور جوشی کو سازش تیار کرنے کے الزام سے بر کر دیا گیا:
بابری مسجد انہدام کیس کے حوالےسے بنائی گئی خصوصی عدالت نے کیس میں ملوث تمام 32 ملزمان کو بری قرار دینے کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ایل کے ایڈوانی، ایم ایم جوشی، اور امہ بھارتی کو 28 سال پہلے ایودھیا میں بابری مسجد کو گرانے کی سازش تیار کرنے الزام سے بھی بری قرار دے دیا ہے۔
فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالت کے اطراف میں گاڑیوں کی آمد و رفت لکڑی کی رکاوٹیں کھڑی کر کے روک دی گئی تھی۔
بابری مسجد کیس در اصل ہے کیا؟
بابری مسجد بھارت کے شہر ایودھیا میں 1527 کے قریب تعمیر کی گئی تھی جسے 1992 میں بھڑکنے والے ہندو مسلم فسادات کے دوران ہندو انتہا پسندوں نے گرا دیا تھا۔ مسجد کو گرائے جانے کے پیچھے ہندو انتہا پسندوں کی یہ سوچ تھی کہ مسجد کی جگہ پر کبھی ہندوں کو رام مندر ہوا کرتا تھا۔
جس کے نتیجے میں بھارت میں نسلی فسادات شروع ہوگئے تھے اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان دنگوں میں تقریبا 1800 لوگ جان بحق ہوئے تھے۔
بہرحال مسجد کو گرائے جانے کے بعد مقدمہ بہت سست روی سے چلا، اور مقدمے کا ٹرائل 2010 میں شروع ہوا اور وہ بہت سست روی کا شکار رہا۔ آخر کار بھارتی سپریم کورٹ کو یہ حکم دینا پڑا کہ مقدمے کی سماعت روزانہ کے بنیاد پر ہوگی اور جج ایس کے یادیو کا ٹرانسفر نہیں کیا جائے گا۔
آج اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ جس میں تمام ملزمان کو بری قرار دے دیا گیا ہے۔ اور فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کو گرانے کا منصوبہ پہلے سے تیار نہیں کیا گیا تھا۔
جبکہ بابری مسجد کی جگہ کے حوالے سے مقدمہ مسجد کو گرائے جانے کے مقدمےسے مختلف تھا، جس کا فیصلہ 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے دیا تھا۔
زمین کے حوالے سے ہندوں کو مقدمہ تھا کہ مسجد ہندو دیوتار رام جائے پیدائش پر تعمیر کی گئی ہے۔ اس لیے اس زمین پر مندر بنانے کے لیے ہندوں کا حق ہے۔
تاہم زمین کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ نومبر 2019 میں سنایا گیا، جس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ رام جنم بھومی ٹیمپل کے حق میں دیا، اور بابری مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کی اجازت دے دی، اور حکم دیا کہ مسجد کے لیے سرکار مسلمانوں کو کہیں اور زمین فراہم کرے گی۔
Source: Khaleej Times







