
خلیج اردو
یکم اکتوبر 2020
لندن: برطانوی شاہی جوڑے نے ایک انٹرویو میں اقرار کیا ہے کہ برطانیہ میں مختلف اداروں میں نسل پرستی موجود ہے۔ اگر سفید نسل سے تعلق رکھنے والے باقی افراد کے ساتھ رویوں میں تبدیلی لائیں تو برطانیہ نہ صرف خوبصورت نظر آئے گا بلکہ ترقی کے مواقع بڑھیں گے۔
ایوننگ اسٹنڈرڈ اخبار کو انٹرویو میں شہزادہ ہیری اور اس کی بیوی میگھن مارکل نے اقرار کیا کہ برطانیہ میں ادارہ جاتی نسل پرستی موجود ہے اور اس کے خاتمے سے برطانیہ کی ترقی جڑی ہے۔ اگر سفید فام لوگ دوسری نسلوں کے لوگوں کو اپنے جیسے سمجھیں گے تو انہیں دنیا اور رنگین معلوم ہوگی۔
ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس نے بتایا کہ برطانیہ میں برسوں سے چلی آئی نسل پرستی کی وجہ سے رنگت کی بنیاد پر کچھ لوگ مختلف اداروں میں مواقع حاصل نہیں کر پاتے۔ انہیں قبول نہیں کیا جاتا اور ان کی زندگی میں صرف رنگت کی بنا پر محرومیاں پائی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میگھن سے ملنے کے بعد وہ محسوس کرتے ہیں کہ نسل پرستی کس حد تک خاموش انداز میں موجود ہے۔ میں مختلف اقلیتوں سے ملا ، مجھے پتہ چلا کہ کس حد تک لوگوں کی زندگی سفید فام نہ ہونے کی وجہ سے متائثر ہوتی ہے۔
36 سالہ شہزادے نے بتایا کہ نسل پرستی اور مختلف فرق ختم کرکے ہم اس دنیا کو خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ ہم اپنے سیاہ تاریخ کے دھبے دھو سکتے ہیں اگر ہم نے یکساں مواقعوں کا کلچر پروان چڑھایا۔
انٹرویو کے بعد میڈیا کے ایک حصے میں یہ تائثر دینے کی کوشش کی گئی ہے جس کے مطابق شاہی جوڑا پرخوں سے چلی آئی شاہی رسومات کو قدر نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ ماہرین کے مطابق یہ انٹرویو امریکی صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہو سکتا ہے جہاں صدراتی دور میں شامل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نسل پرست سمجھا جاتا ہے۔
یادررہے کہ جون میں 39سالہ میگھن مارکل نے کہا تھا کہ وہ اس بات پر افسوس کررہی ہے کہ ان کے بچے ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جو نسل پرستی کا گڑھ ہے۔
Source : NDTV
اخبار کے مطابق ہیری نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان کے خیالات کو متنازع بنایا جا سکتا ہے۔






