خلیج اردو آن لائن:
پاکستانیوں اور بھارتیوں کو دبئی میں نوکری کی تلاش کے لیے وزٹ یا سیاحتی ویزوں پر دبئی نہ آںے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔
یہ وارننگ گزشتہ دنوں دبئی میں نوکری کی تلاش کے لیے وزٹ یا سیاحتی ویزوں پر آںے والے سینکڑوں پاکستانی اور بھارتی مسافروں کے دبئی ایئرپورٹ پر پھنس جانے کے بعد دیا گیا ہے۔
گزشتہ دنوں سینکڑوں پاکستانیوں کو دبئی میں داخل ہونے سے اس لیے روک دیا گیا تھا کیونکہ انکے ویزے کی نئی شرائط کے مطابق دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
پاکستانی قونصل خانے کے مطابق منگل کے روز 1 ہزار 374 پاکستانیوں کو دبئی میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ جن میں سے 1 ہزار 276 مسافروں کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا اور 92 مسافر ابھی بھی ایئر پورٹ پر پھنسے ہوئے ہیں جنہیں اگلے 12 گھنٹوں پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا۔
جبکہ بھارتی قونصل خانے کی مطابق 300 بھارتی مسافروں کو دبئی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، جن میں سے کچھ کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے دی گئی تھی اور کچھ کو قونصل خانہ واپس بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔
نوکری تلاش کرنے والوں کو سیاحتی ویزوں پر دبئی آںے سے روکا جائے:
پاکستانی قونصل خانے کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں متعلقہ حکام کو آگاہ کر چکے ہیں کہ پاکستان سے دبئی نوکری تلاش کے لیے آنے والوں کو سیاحتی یا وزٹ ویزوں پر دبئی آںے سے روکا جائے۔ ؎
دبئی میں پاکستانی قونصل خانے کے ایک اہلکار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ” اب ایئرپورٹ پر دو چیک پوائنٹس جن میں سے چیک ان کاوئنٹر پر جبکہ دوسری ایمگریشن کاونٹر پر ہے۔ اور اگر وہاں موجود اہلکار کو شک ہوا کہ آپ سیاحتی یا وزٹ ویزے پر نوکری تلاش میں دبئی جارہے ہیں تو آپ کو کو سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی”۔
اہلکار کو مزید کہنا تھا کہ ہم نے متعلقہ حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ یقینی بنائیں کہ دبئی آنے والے سیاح کے پاس ریٹرن ٹکٹ اور ہوٹل کی بکنگ موجود ہو۔
بھارتی قونصل خانے کی جانب سے بھی کم و بیش یہی ہدایات کی گئیں ہیں اور قونصل خانے کی جانب سے بھارت میں متعلقہ حکام کو لکھا گیا ہے کہ نوکری تلاش میں دبئی آںے والوں کو سیاحتی ویزوں پر دبئی کا سفر نہ کرنے دیں۔
بنگلہ دیش کی قومی ایئر لائن بیمن کی جانب سے بھی اپنے مسافروں کو مطلع کیا گیا ہے کہ جو مسافرو بھی وزٹ ویزے پر دبئی کا سفر کرنے چاہتے ہیں انکے پاس بیمن کا ریٹرن ٹکٹ ہونا چاہیے۔
تاہم دونوں ممالک کے قونصل خانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بحران کو کنٹرول کرنے لیے مقامی حکام کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔
یہ بحران کیوں پیدا ہو رہا ہے؟
پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت سے ورکزر کی ایک بڑی تعداد یو اے ای میں نوکری کی تلاش کے لیے جااتی ہے اور بہت بڑی تعداد وہاں نوکریاں کر رہی ہے۔ کورونا وبا کے بعد جیسے ہی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے لگا ہے تو ان ممالک سے ورکرز دوبارہ سے یو اے ای میں نوکریوں کی تلاش کے لیے جانا شروع ہو گئے ہیں۔
اور یہ ورکرز زیادہ تر وزٹ یا سیاحتی ویزے پر دبئی جاتے ہیں اور پھر وہاں نوکری تلاش کرنے کے بعد اپنے ویزے کا اسٹیٹس تبدیل کرواتے ہیں۔
تاہم اب یو اے ای حکام نوکری تلاش کے لیے سیاحتی ویزوں پر آںے والوں کو ملک میں داخل ہونہیں ہونے دے رہی جس کے باعث ان ممالک سے آنے والے مسافر ایئرپورٹ پر پھنس جاتے ہیں۔
دبئی میں داخلے کے لیے ریٹرن ٹکٹ ہونا ضروری ہے:
متحدہ عرب امارات حکام کی جانب سے ایئر لائنز کو سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں ایئر لائنز، ٹریول ایجنٹس اور سفارت کاروں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت، نیپال، بنگلہ دیش، افغانستان سے وزٹ یا سیاحتی ویزوں پر دبئی آںے والوں مسافروں کے دبئی میں داخلے ہونے کے لیے ضروری ہے کہ انکے پاس ریٹرن ٹکٹ بھی موجود ہو۔
Source: Gulf News







