خلیج اردو: راس الخیمہ سول کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اماراتی شہری کو دی گئی ایک پلاٹ کی ملکیت ان کی موت کے بعد اس کی غیر ملکی بیوی کو منتقل نہیں کی جاسکتی۔ عدالت نے مزید کہا کہ ایک اماراتی شہری کی بیوہ خاتون اپنے مرحوم شوہر کی عطا شدہ اراضی کو بیچ بھی نہیں سکتی ہیں۔
"عطا شدہ اراضی کی ملکیت اس وقت تک منتقل یا فروخت نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اماراتی شہری کی موت سے پہلے یہ کام نہ کیا جائے۔”
عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک افریقی خاتون نے عدالت میں درخواست دی کہ وہ اپنے مرحوم اماراتی شوہر سے وراثت میں ملنے والے مکان کی ملکیت کی تصدیق کرے۔
اس نے عدالت سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اپنے اور مرحوم اماراتی شوہر کے سات بیٹوں کے مابین وراثت کو شرعی قانون کے مطابق تقسیم کرے۔
اپنی درخواست میں خاتون نے بتایا کہ اس کی شادی اماراتی فرد سے ہوئی ہے اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے۔
"اس نے مجھے ایک (غیر سرکاری) کاغذ لکھ کے دیا تھا جس میں اس نےاقرار کیا کہ میں جس گھر میں رہتی ہوں وہ میرے جہیز کا حصہ ہے اور اگر ہماری شادی ایک سے تین سال تک باقی رہی تو اس مکان کی ملکیت مجھے منتقل کردی جائے گی۔”
عدالت نے اس معاملے کو دیکھنے کے لئے ایک ماہر کو تفویض کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ گھر مرحوم اماراتی شوہر کو دیا گیا تھا اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اس کے نام پر کوئی دید جاری نہیں کی گئی تھی۔
عدالت نے خاتون کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جائیدادوں کی ملکیت صرف اندراج کے ذریعہ منتقل نہیں کی جاسکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ ملکیت کی منتقلی کیلئے ایک درست معاہدہ اور پھر رجسٹریشن ہونا ضروری ہے۔”







