متحدہ عرب امارات

ویکسین کے حوالے سے پائی جانے والی 10 افواہوں اور غلط فہمیوں کے جوابات

 

خلیج اردو آن لائن:

کورونا وبا کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی مختلف سازشتی تھیوریاں گردش کرنے لگی تھیں۔ اور جیسے ہی کورونا سے بچاؤ کےلیے ماہرین صحت نے ویکسین کی تیاری شروع کی تو بھی متعدد افواہیں اور سازشی تھیوریاں پھیلائی جانے لگیں۔

جیسا کہ ویکسین لگوانے سے لوگ زومبی بن جائیں، ویکسین کے ذریعے لوگوں کے جسموں میں ایک ایسی چپ داخل کی جائے گی جس سے انسانوں کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ یا ویکسین لگوانے سے لوگ بھانج ہو جائیں گے۔ اس طرح کی افواہوں اور سازشی تھیوریوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو کورونا وبا اور پھر ویکسین کی تیاری اور اب جب کے ویکسین عوام کو لگائی جا رہی ہے تب بھی گردش میں ہیں۔

خیال رہے کہ ایسی افواہوں صرف کورونا ویکسین سے متعلق نہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ بلکہ جب بھی کسی بھی بیماری کے خلاف ویکسین تیار کی گئی تب بھی کم و بیش ایسی ہی افواہیں پھیلائی گئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایسی افراہوں پر یقین کرنے اور پھر ویکسین نہ لگوانے سے ہر سال تقریبا 3 ملین افراد جانبحق ہوتے ہیں۔

لہذا ان جھوٹی افواہوں اور سازشی تھیوریوں کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ تمام افراد ویکسین لگوا کر خود کو بیماری سے محفوظ رکھ پائیں۔ ذیل میں کورونا ویکسین کے حوالے سے پائی جانے والی 10 غلط فہمیوں یا جھوٹی افواہوں کو سائنسی بنیادوں پر رد کیا گیا ہے۔ جوکہ آپ کے لیے پڑھنا ضروری ہے۔

کورونا ویکسین سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیاں اور ان کے جوابات درج ذیل ہیں:

1۔ کورونا ویکسین جلدی میں تیاری کی گئی ہیں،لہذا یہ ویکسین غیر محفوظ ہے:

حقیقت:

حقیقت یہ ہےکہ کورونا ویکسین کی تیاری کے دوران کسی مرحلے میں سائنسی اصولوں اور طریقہ کار نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔ اب تک تیاری کی جانے والی کورونا ویکسین کو سخت تجربات سے گزارا گیا اور انکی تیاری میں بین الاقوامی ہیلتھ اسٹٰینڈرز کو اپنایا گیا ہے۔

اور یو اے ای میں سائنو فارم ویکسین کے تیسری درجے کے ٹرائل میں 31 ہزار رضا کاروں نے شرکت کی تھی۔

2۔ کورونا ویکسین سور پر مشتمل ہے

حقیقت:

فائزر، موڈرنا اور آسٹرا زنینکا ویکسین بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ انکی ویکسین میں سور کی مصنوعات ہر گز استعمال نہیں کی گئی ہیں۔ لیکن کچھ ویکسین میں سور کے جیلیٹن استعمال سے متعلق افواہیں پھیل چکی ہیں۔ انہی افواہوں کے جواب میں یو اے ای کی فتویٰ کونسل نے فتویٰ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ویکسین میں سور کا استعمال کیا گیا تو بھی انسانی زندگی کو بچانے کے لیے ویکسین کا استعمال شریعت کے مطابق ہوگا۔

3۔ کورونا ویکسین سے متعلق تیسری افواہ یہ ہے کہ اس سے ہمارا ڈی این اے تبدیل ہوجائے گا

حقیقت:

ویکسین کے متعلق افواہ ہے اس ہمارا ڈٰی این اے تبدیل ہوجائے گا اور ہم فاتر العقل ہوجائیں گے۔ حلانکہ حقیقت یہ ہے کہ سائنو فارم، سپوتنک اور سینوواک نامی ویکسین کی تیاری میں کورونا وائرس کا ہی غیر فعال وائرس استعمال کیا گیا ہے۔

جبکہ فائزر اور موڈرنا میں آر این اے کا اسعتمال کیا گیا ہے کہ اور جب یہ ویکسین ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہے تو مسینجر آر این اے ہمارے سیل کو پروٹین بنانے اور قوت مدافعت پیدا کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔ لیکن سی ڈی سی کے مطابق یہ ہدایات سیل کے نیوکلائی میں داخل نہیں ہوتی اس لیے ڈی این اے کی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ اور قوت مدافعت کے سیل ہدایات کے استعمال کے بعد ایم آر این اے کو جسم سے باہر نکال دیتے ہیں۔

4۔ کورونا ویکسین ہمیں نامرد یا بانجھ کر سکتی ہے؟

حقیقت:

کورونا ویکسین ہمیں نامرد یا بانجھ کر دے گی جیسی افواہ سے متعلق جواب دیتے ہوئے یو کے رائل کالج کے صدر ڈاکٹر ایڈورڈ مورس کا کہنا تھا کہ "ہم خواتین کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کورونا ویکسین کے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہونےکے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں”۔

اور ایسا کوئی بھی دعویٰ محض افواہیں ہیں اور وہ تحقیق سے ثابت شدہ نہیں ہیں۔

5۔ کیا حاملہ خواتین کے لیے کورونا ویکسین لگوانا غیر محفوظ ہے؟

حقیقت:

متعدد ممالک کی جانب سے ایسی خواتین کو ویکسین نہیں لگائی جا رہی جو حاملہ ہیں، یا بچوں دودھ پلا رہی ہیں اور جو مستقبل میں حاملہ ہونا چاہتی ہیں۔ یہ فیصلہ احتیاط کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے نا کہ کسی منفی اثرات کے ثبوت کی بنا پر۔

اور فائزر اور موڈرنا لگوانے والی کچھ خواتین حاملہ ہوئی ہیں اور انہیں مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ مزید برآں، عالمی ادارہ صحت کی جانب سے حاملہ خواتین کو ویکسین لگانے کے حوالے کسی خدشے کا اظہار نہیں کیا ہے۔

6۔ ویکسین لگوانے کے بعد ماسک پہننے کی ٖضرورت نہیں ہے؟

حقیقت:

جی ہاں ویکسین لگوانے کے بعد آپ کورونا سے محفوظ ہوں گے لیکن اگر آپ بغیر ماسک لگائے کسی عوامی جگہ پر جاتے ہیں یا دیگر افراد سے ملتے ہیں تو آپ وہاں پر کورونا پھیلا سکتے ہیں۔ کیونکہ ابھی تک متعدد افراد کو ویکسین نہیں لگی۔ لہذا ویکسین لگوانے کے بعد بھی ماسک سمیت دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھنا ہوگا۔

7۔ کورونا وائرس کی بیماری ہونے کے بعد کورونا ویکسین مؤثر ہوگی؟

حقیقت:

تحقیق کے مطابق امکان ہے کہ معمولی یا علامات کے بغیر کورونا وائرس کی بیماری کا شکار ہونے والے افراد میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت کم پیدا ہوئی ہو لہذا انہیں اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنے کے بعد کورونا ویکسین لگوانے کے فیصلہ کرنا چاہیے۔

8۔ کیا کورونا ویکسین سے بھی کورونا بیماری لاحق ہوسکتی ہے؟

حقیقت:

فائزر اور مودڑنا ویکسین میں کورونا کا نہ ہی زندہ نہ مردہ وائرس شامل کیا گیا ہے۔ اور سپوتنک، سائنور فارم، اور دیگر ویکسینوں میں کورونا وائرس کا غیر فعال یعنی مردہ وائرس شامل کیا گیا ہے۔ لہذا ان ویکسینوں کے لگائے جانے سے کورونا کی بیماری نہیں ہو سکتی۔

جبکہ آکسفورڈ ویکسین میں استعمال ہونے والے وائرس کو تبدیل کر دیا گیا ہے لہذا اس سے بھی کورونا کی بیماری لاحق نہیں ہوسکتی۔

9۔ کورونا ویکسین لگوانے سے ہم زومبی بن جائیں گے؟

حقیقت:

اس دعوی میں بھی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اور یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ میں فائزر ویکسین کو استعمال کے لیے منظور کیا گیا۔ اور اس دعوی واحد مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا ہے۔

اس دعوی کو پھیلانے والے افراد 2007 میں آںے والی فلم آئی ایم لیجنڈ کے کچھ سین دیکھاتے ہیں جس میں 2021 میں زومبیوں کی وبا کے پھیلنے کو دیکھایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بہت سارے لوگ مرگی کے مریضوں کی ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کورونا ویکسین کا نتیجہ ہے حالانکہ اس وقت دنیا میں مرگی کے تقریبا 50 ملین مریض موجود ہیں۔

10۔ کورونا ویکسین کے ذریعے ہمارے جسم میں ایک مائیکر چپ داخل کر دی جائے گی؟

حقیقت:

کورونا ویکسین کے حوالے سے یہ افواہ بہت زیادہ پھیلائی گئی ہے کہ اس میں ایک چپ ہوگی جو اپنے جسم میں داخل کر دی جائے گی جس سے ہمارے اوپر کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا۔ اور ایسی افوا پھیلانے والے افراد  این بی سی کی 2017 کی ایک میڈیا رپورٹ دیکھاتے ہیں۔ جس میں ایک امریکی کمپنی اپنے ملازمین کو اپنی انگلیوں میں ایک مائیکرو چپ لگوانے کا موقع دیتی ہے جس سے وہ اپنے کمپیوٹر میں لاگ ان کر سکیں گے، خریداری کر سکیں گے، یا کاپی مشین چلا سکتے ہیں۔

اور یہ ویڈیو سیاق و سباق سے الگ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہے تاہم فیس بک نے اسے ہٹا دیا تھا۔

اور یو اے ای وزارت صحت نے بھی لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسی افواہوں پر دھیان نہ دیں اور ایسی افواہوں کو آگے مت پھیلائیں اور خود کو قانونی جوابدہی سےمحفوظ رکھیں۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button