خلیج اردو
07 مارچ 2021
ابوظبہی : متحدہ عرب امارات کا دارالحکومت ابوظبہی آہستہ آہستہ سہی لیکن یقینا کرونا وائرس کے بعد سے بحالی کے راستے پر گامزن ہے۔ ہفتے کے روز حکام نے سینما ہالوں کے بند ہونے کے ایک ماہ بعد اسے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
پچھلے کچھ ہفتوں کے اعداودشمار اور مختلف اپڈیٹس میں امید کی کرن موجود ہے۔ 12 جنوری کے بعد پہلی مرتبہ کرونا وائرس کے نئے کیسز کی تعداد جمعہ کو چھوڑ کر پورے ہفتے میں 3،000 سے کم ہوگئی ہے ۔ جمعہ کو اس کی تعداد 3،072 تھی۔ جنوری کے مقابلے میں فروری کے وسط سے ہی نئے کیسز کی تعداد کم رہی ہے۔ دوسری طرف ویکسینیشن مہم میں 6.2 ملین خوراکیں دی جا چکی ہے جبکہ اب تک آبادی کے 46 فیصد کو کرونا ویکسین لگائی جا چکی ہے۔
بظاہر لگ ایسا رہا ہے کہ سخت احتیطاطی تدابیر ، کرونا ویکسین ، بندشوں کے نتائج آرہے ہیں اور ابوظبہی عنقریب معمول پر آرہا ہے اور پہلے مرحلے سے نکل کر اب بچاؤ کے ساتھ ساتھ بحالی کا مرحلہ بھی شروع کیا جا چکا ہے۔
فروری کے وسط تک ابوظبہی کے حکام نے اسکولوں میں روایتی کلاس روم کی تعلیم دوبارہ شروع کردی ہے ۔ واٹر فرنٹ کی ایک نئی دلکشش ال گورم کارنیچے کو عوام کھول دیا گیا ہے۔ فروری کے آخری ہفتے میں ایک متحدہ عرب امارات کے منفرد IDEX نمائش میں 62،400 سے زیادہ مقامی افراد نے شرکت کی ۔ اس نمائنش میں بین لاقوامی مندوبین کی باحفاظت شرکت نے یہ ثابت کیا کہ متحدہ عرب امارات لوگوں مختلف تقاریب کے حوالے سے میزبانی کیلئے تیار ہے۔
سنیما ہالوں کا دوبارہ افتتاح کرونا کی بعد کی صورت حال یا بحالی کی راہ میں ایک اور قدم ہے۔ ابوظہبی ایمرجنسی ، کرانسز اینڈ ڈیزاسٹر منجمنٹ کمیٹی نے بتایا کہ سنیما ہال 30 فیصد صلاحیت پر کام کریں گے جہاں ماسک پہننے ، سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور باقاعدگی سے صفائی ستھرائی سمیت تمام احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد لازمی ہوگا۔
سین رائل سنیما کے جنرل منیجر محمد رفیق نے کہا ہے کہ ابو ظہبی کی جانب سے کرونا وباء کے خلاف حفاظتی اقدامات کے بعد سینما گھروں کے دوبارہ کھلنے کی ایک بڑی وجہ نئے کیسز کی تعداد میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم اپنے مہمانوں کو دوبارہ خوش آمدید کہتے ہوئے کافی پرجوش ہیں۔ ہمارا عملہ فیس ماسک کے ساتھ ساتھ فیس شیلڈ کا اسعمال کرتا ہے۔ ہم گاہکوں کیلئے درجہ حرارت کی جانچ پڑتال کرتے ہیں ، ٹکٹ اور دیگر اشیاء کیلئے ادائیگی کو ٹچ فری نظام کے تحتبنایا گیا ہےجبکہ کرسیوں اور قالینوں کی باقاعدگی سے صفائی کی جاتی ہے۔
منیجر رفیق نے بتایا کہ سنیما ہال صرف 22 سے 25 فیصد تک چل سکتے ہیں۔ اگر دو افراد بیٹھے ہوئے ہیں تو ہمیں دو نشستیں ان کے دائیں اور بائیں ، سامنے اور پیچھے خالی چھوڑنی ہوں گی یعنی کل 8 سیٹیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حفاظتی تدابیر کے ساتھ سینما ہال ایک محفوظ ترین مقام ہے جہاں پر سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔
Source : Khaleej Times







