متحدہ عرب امارات

شیخ محمد بن زید کے استاد کی جانب سے ولی عہد کے بچپن کی نایاب تصویروں سامنے لائی گئی ہے

خلیج اردو
11 مارچ 2021
ابوظبہی : ٹویٹر پر شیخ محمد بن زید کی سالگرہ کے حوالے سے ٹرینڈ جاری ہے جس میں #HBDMBZ کے ٹویٹر ہیش ٹیگ کے ساتھ ابوظبہی کے ولی عہد کو مبارک باد پیش کررہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے ڈیفیکٹیو حکمران اور ابوظبہی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر کی 60 ویں سالگرہ پر لوگ ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔

سب سے بہترین خراج ان کو ولی عہد کے سابق استاد نے پیش کیا ہے جنہوں نے ماضی کے جھروکوں سے ولی عہد کی تصویروں کو سامنے لاکر ان کے بچپن میں بطور ہونہار طالب علم صلاحیتوں کو یاد کیا۔

اس حوالے سے ابوظبہی میڈیا آفس کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد مندی جو آلکنڈی پرائمری اسکول میں 1971 سے 1975 تک شیخ محمد بن زید کے استاد تھے ، ولی عہد کے بچپن کی تصویروں کے البم کو دیکھ رہے ہیں۔

استاد نے یاد دلایا کہ شیخ محمد بن زید ہر دوسرے طالب علم کی طرح تھے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا سابقہ ​​طالب علم اسکول میں صبح کی مجلس میں خاص طور پر جوش و خروش کا مظاہرہ کیا کرتا تھا۔

شیخ محمد کے پاس ایک صفحہ تھا جسے وہ صبح کے وقت کسی میگزین سے پڑھتے تھے تاکہ عوامی سطح پر بولنے کا طریقہ سیکھیں اور اب جب ہم اسے عوامی طور پر بولتے ہوئے سنتے ہیں تو وہ یہ بہت اچھے انداز میں یہ فریضہ سر انجام دیتا ہے۔ لیکن اس وقت صبح کی اسمبلی کے دوران ان کے پاس صرف ایک منٹ کا وقت تھا جس میں وہ کچھ لکھتے یا پڑھتے۔

اس ویڈیو کلپ کی خاص بات یہ ہے کہ جب احمد نے ایسے ہی ایک اسمبلی میں کم سن محمد بن زید کی تقریر کی ریکارڈنگ شیئر کی ہے۔

ابوظہبی ولی عہد کی بچپن کی آواز میں سنا جا سکتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ آج کے دانشمندانہ الفاظ یہ ہیں کہ جو محنت کرتے ہیں وہی کامیابی حاصل کریں گے اور جو بیج بوتے ہیں وہ وہی کاٹ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی ان کو ملتی ہے جو متعین کردہ منزل کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں۔

احمد شیخ محمد کے وہ استاد ہیں جن کو شاہی محل سے کال آئی کہ آپ کا ایک سابق طالب علم آپ سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے بعد شیخ محمد اپنے استاد سے ملنے گئے ۔ اس پرمسترت موقع پر شیخ محمد نے کہا کہ یہ ایک فیملی ویزٹ کی طرح تھا۔ ہم نے یادیں شیئر کیں۔ ایسا لگا کہ ماضی نے ہمیں کھبی خود سے جدا نہیں کیا۔

Source : Khaleej Times

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button