
خلیج اردو
15 مارچ 2021
ابوظبہی : اتوار کو جاری ہونے والی ایک نئی عالمی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھلاؤ پر قابو پانے کی جانے والی انقلابی اقدامات کی بدولت غیر ملکی پیشہ ور افراد میں کام کرنے کیلئے ترجیحی مقام کے طور پر متحدہ عرب امارات کی درجہ بندی میں بہتری برقرار ہے۔
بوسٹن کنسلٹنگ گروپ (بی سی جی) اور بیٹ ڈاٹ کام کے ایک مطالعے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے کام کیلئے بہتر مقام سے متعلق سروے میں 6 پوائنٹس کی بہتری کے ساتھ عالمی درجہ بندی میں 13 بہترین کی بہتری پائی ہے۔ یہ سروے دنیا کے بہترین کام کرنے کے مقامات سے متعلق تھی جس میں 190 ممالک کو دیکھا گیا اور دنیا بھر سے 209000 افراد نے سروے میں حصہ لیا ۔
مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) ڈاکٹر کرسٹوفر ڈینیئل نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حیثیت میں اگر دیکھیں تو دوسرے ممالک کے مقابلے میں وبائی امراض کا یہاں کم اثر پڑ رہا ہے اور عالمی سطح پر متحدہ عرب امارات کا پرکشش نظر آنا اس کی ایک بڑی وجہ ہے کرونا کے خلاف بہترین اقدامات اور بحالی میں تیزی ۔ جہاں کئی قابل ذکر شہروں کو دو سال قبل کے مقابلے میں بہت کم پرکشش سمجھا گیا وہاں متحدہ عرب امارات کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے۔
ایم ڈی مزید کہا کہ دبئی اور ابوظہبی عالمی شہروں کی درجہ بندی میں کامیابی کی تازہ ترین داستانوں میں شامل ہیں ان شہروں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اپنی بہتر حیثیت کو مستحکم کرتے ہوئے ایک سال میں صحت کی دیکھ بھال کے کی وجہ سے خود کو انتہائی محفوظ مقام ثابت کیا۔
سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ دبئی 2018 میں چھٹے نمبر سے بڑھ کر 2020 میں تیسرے نمبر پر آگیا ۔ سروے میں جواب دہندگان نے ایکسپو 2021 کی تجدید شدہ صلاحیتوں کا حوالہ دیا ہے اور کرونا وائرس کے چیلنجوں کے باوجود نجی شعبے کی تیز رفتار بحالی اور مدد کی اہم ترغیبات اس کی وجہ ہیں۔
ابوظہبی کی درجہ بندی 2014 میں 51 سے بڑھ کر 2018 میں 14 اور گذشتہ سال پانچویں نمبر پر آگئی ہے جس کی مدد سے حکومت کی جانب سے اس کے عمل کو بحال کرنے ، عوام کی قیادت ، اعلی حکومتی سرمایہ کاری ، اور معاشی ترقی کی نئی حکمت عملی اپنا کر عوام کی خوشحالی کیلئے اقدامات ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے سروے میں شامل تقریبا 90 فیصد شرکاء اوسطا 38 سال کی عمر کے ساتھ تارکین وطن تھے جو بڑے پیمانے پر ملک کی آبادی کی تشکیل کی عکاسی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر ڈینیئل نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی قومی افرادی قوت بھاری تعداد میں غیر ملکی کارکنوں پر مشتمل ہے ۔ متحدہ عرب امارات کے 94 فیصد ملازم بھی عالمی سطح پر 50 فیصد کے مقابلے میں 2020 میں بیرون ملک کام کرنے پر راضی تھے ۔
عالمی ریکروٹنگ اور ہیومن ریورس سولیوشن فرم ایڈیکو مڈل ایسٹ کی ایک حالیہ تحقیق میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جب صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کی بات کی جاتی ہے تو متحدہ عرب امارات کو نمایان مقام حصل ہے۔ متحدہ عرب امارات نے 67 ، جبکہ ترکی ، تیونس اور یونان نے بالترتیب 48 ، 46 ، اور 67 پوائنٹس حاصل کیے ہیں۔
ملازمت کی منڈی میں پچھلے کچھ مہینوں میں بہت سی تبدیلیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ دنیا بھر میں کوویڈ 19 وبائی بیماری کا مقابلہ کیا جارہا ہے جس نے بڑے آپریشن اور عمل کو نئی شکل دی ہوئی ہے جس سے ہر صنعت میں کمپنیوں کو انلائن کام کی جگہوں پر منتقلی کے دباؤ میں لایا گیا ہے۔ اسی طرح ، پیشہ ور افراد اور کاروباری افراد کی اکثریت نے انلائن کام کو اپنایا ہے ، جس سے وہ کمپیٹیٹیو رہیں اور تسلسل کو یقینی بنائیں گے ۔
تاہم ، اماراتیوں کی 50 فیصد نے کہا ہے کہ وہ بیرون ملک ملازمت کیلئے چلے جائیں گے کیونکہ ان کے ردعمل کی ایک ممکنہ وجہ قوی برادری کے مضبوط رابطے ہیں۔
بی سی جی کے سینئر پارٹنر رینر اسٹریک نے کہا ہے کہ امیگریشن پالیسیوں نے نقل و حرکت کے رجحان کو پہلے ہی کمزور کردیا ہے۔
کورونا وائرس لوگوں کو بین الاقوامی نقل مکانی پر غور کرنے سے محتاط بنا رہا ہے اور انلائن کام کرنے کے رجحان کو فروغ دے رہا ہے اور بہت سے لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ وہ اپنی جگہ تبدیل کیے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں۔







