خلیج اردو: ملالہ یوسف زئی نے فیشن میگزین ووگ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں پہلی بار اپنی مستقبل کی زندگی سے متعلق کھل کر بات کی ہے، ملالہ یوسف زئی نے شادی اور محبت کے سوال پر ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں ابھی تھوڑی نروس ہیں، ملالہ یوسف زئی نے سوال اٹھایا کہ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ لوگوں کو شادی کیوں کرنا پڑتی ہے، اگر آپ زندگی میں کسی کا ساتھ چاہتے ہیں تو اس کے لیے نکاح نامے پر دستخط کیوں ضروری ہیں. آپ پارٹنر بن کر بھی تو رہ سکتے ہیں۔
تاہم ان کی والدہ کی خواہش ہے کہ وہ شادی کریں، ان کے والد بھی شادی سے متعلق اچھی رائے رکھتے ہیں، ملالہ یوسف زئی نے بتایا کیا کہ کئی پاکستانی لڑکے ان کے والد کو ان سے شادی کے پیغامات بھجوا چکے ہیں، پاکستانی لڑکے ان کے والد کو ای میل کرکے بتاتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس کتنی جائداد اور ملکیت ہیں اور وہ ملالہ سے شادی کرنا چاہتے ہیں، جس پر ان کے والد خوش ہوتے ہیں۔
ووگ کے ٹائٹل کو ٹویٹر پر شئیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اس طاقت کو جانتی ہوں جو ایک جوان لڑکی دل میں لے کر چلتی ہے، جب اس کے پاس ایک ویژن اور ایک مشن ہوتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہر وہ لڑکی جو اس کور کو دیکھے گی اسے معلوم ہوگا کہ وہ دنیا کو تبدیل کرسکتی ہے۔
ملالہ یوسف زئی نے میگزین کو دیے گیے انٹرویو میں اپنی تعلیم، خیالات،مستقبل کی زندگی، سماجی منصوبوں اور سیاست پر بات کی، انہوں نے بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں گزارے گئے دن ان کی زندگی کے بہترین دن ہیں، وہاں ان کے زیادہ تر تین مشغلے پڑھائی کرنا، آرام کرنا اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا تھے اور انہیں سب سے اچھا مشغلہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا لگتا تھا.
ملالہ یوسف زئی نے بتایا کہ وہ جب بھی گھر سے نکلتی ہیں تو دوپٹہ ضرور پہنتی ہیں، کیوں کہ اسے نہ صرف مسلمان بلکہ پاکستانی اور پشتون لڑکی کی شناخت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔







