خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارا ت کے قوانین کے مطابق شاپنگ کرتے ہوئے یا کسی بھی دوسرے کام کے لیے بچے کو اکیلے گاڑی میں چھوڑ کر جانا ایک قابل سزا جرم ہے۔
ماہر قانون اشیش مہتا کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے رونما ہونے پر ذمہ دار افراد جرمانے یا جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ بدھ کے روز عجمان میں ایک منی بس میں ایک تین سالہ بچہ پیچھے رہ جانے کی وجہ سے حبس کے باعث دم گھنٹے سے ہلاک ہوگیا ہے۔
اشیش مہتا کا کہنا ہے "یو اے ای میں نگران یا سپرائزر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچے کی دیکھ بھال کرے”۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچہ جب اسکول بس میں سفر کر رہا ہوتا ہے تو اسکول بس کے ڈرائیور اور اسکول کی انتظامیہ کو اسکا نگہبان تصور کیا جائے گا جب تک کہ بچے کو اس کے والدین یا سرپرست کے حوالے نہ کر دیا جائے۔
متحدہ عرب امارات کے 2016 کے چائلڈ رائٹس لاء کے وفاقی قانون نمبر 3 کے آرٹیک 35 کے مطابق "بچے کو نظر انداز کیے جانے یا اسے کسی خطرے کے سامنے کی صورت میں سرپرست یا سپروائزر کو ذمہ دار تصور کیے جائے گا”۔
اس قانون کے مطابق "نگران کے لئے ممنوع ہوگا کہ وہ بچے کو مسترد، بے گھر یا نظرانداز کرے، اسے بغیر کسی نگرانی یا پیروی کے چھوڑ دے، اس کی رہنمائی نہ کرے، اس کے معاملات کو سنبھال نہ سکے۔ اور بغیر کسی وجہ کے بچے کو اسکول میں داخل نہ کروائے یا اسے ان پڑھ ہی رہنے دے”۔
اس قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں درج ذیل سزا ہو سکتی ہے:
اگر بچے کو نظر انداز کیا جانا ثابت ہوتا ہے اور اس کی زندگی خطرے میں تھی تو اس جرم میں سرپرست کو کم ازکم 5 ہزار درہم جرمانے یا قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اور اگر نظر انداز کیے جانے پر بچے کی موت ہو جاتی ہے تو اس کے نگران یا سرپرست کو جرمانے سمیت قید کی سزا دی جائے گی۔
Source: Khaleej Times







