خلیج اردو: شارجہ کی اپیل کورٹ نے ایک خاتون سمیت سات عرب نژاد ملزمان کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے جس کے بعد انہیں ان کے آبائی ممالک میں بھیج دیا جائے گا۔
ان افراد کو ایک رینٹل کمپنی سے چار بھاری گاڑیاں چوری کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔
شارجہ پولیس کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ گاڑیوں کی ملکیت کے کاغذات میں ردوبدل کر کے دو مبینہ غیر مشکوک خریداروں کو فروخت کیے گئے۔
خاتون نے بھی عدالت کے سامنے اعتراف کیا کہ وہ چوری اور جعلسازی میں چار دیگر مجرموں کے ساتھ شریک تھی۔
وہ بطور آلہ کار تھی، جس نے فجیرہ سے دبئی تک تعمیراتی سامان لے جانے کے بہانے فرم سے چار بھاری گاڑیاں کرائے پر لی تھیں۔
مدعا علیہان کے وکیل سعود محمد نے مجرمان کو چوری کی گاڑیاں خریدنے کا قصوروار ٹھہرائے گئے اپنے مؤکلوں کی جانب سے بے گناہی کی استدعا کی۔
اس نے دلیل دی کہ اس کے مؤکلوں کو معلوم نہیں تھا کہ گاڑیاں چوری ہوئی ہیں۔
دونوں افراد نے ان چوری شدہ گاڑیوں کو فروخت کرنے کے لیے طے شدہ رقم میں سے 300,000 درہم کی ادائیگی کی تھی، جو کہ درہم 600,000 کا 50 فیصد تھا –
ابتدائی طور پر شارجہ کی عدالت نے ساتوں ملزمان کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن بعد میں شارجہ کی اپیل کورٹ نے اسے کم کر کے ایک سال کر دیا۔







