کراچی: پی آئی اے کا طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہوگیا، حادثے کی جگہ سے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ وزیراعظم نے طیارہ حادثے کی فوری تحقیقات کا حکم دے دیا ہے
تفصیلات کے مطابق کراچی ایئرپورٹ کےقریب جناح گارڈن میں پی آئی اے کا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ، پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 لاہور سے کراچی آرہی تھی، طیارہ گرنے پر سول ایوی ایشن کی جانب سے ایمرجنسی نافذ کردی جبکہ سول ایوی ایشن ، ریسکیو اور پولیس کی ٹیمیں طیارہ گرنے کی جگہ پہنچ گئی۔
طیارہ گرتے ہی ہولناک آگ لگ گئی اور پورے علاقے میں دھواں ہی دھواں پھیل گیا ہے، طیارہ گرنے کے مقام پر گھروں کو نقصان پہنچا اور گاڑیوں بھی تباہ ہوگئی۔
اطلاعات کے مطابق طیارہ خالی مقام پر گرا ہے، طیارہ ایئربس320 میں 100سے زائد مسافر موجود تھے ، کپتان نے کنٹرول ٹاورکوطیارےکےلینڈنگ گیئرمیں خرابی کی اطلاع دی اور کپتان کو گائیڈ لائن دینے کےدوران طیارہ ریڈار سے غائب ہوا۔
ترجمان پی آئی اے نے ایئربس320 کے گرنے کی تصدیق کردی ہے اور پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے،سی ای او پی آئی اےایئرمارشل ارشد ملک کا ناگہانی حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان پی آئی اےجبکہ سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کےطیارے میں 99مسافر اور 8 کریو ممبر سوار تھے۔
ڈی آئی جی نعمان صدیقی کا کہنا ہے کہ طیارہ گرنے سے زمین پر 4 گھر تباہ ہوئے ہیں ، طیارہ گرنے کی جگہ کوگھیراؤکرکے مکمل سیل کردیا گیا ۔
طیارہ حادثہ کے 8افراد کی لاشیں اور 10 زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے
ایئر بس 320کے پائلٹ سجاد گل اور فرسٹ آفیسر عثمان اعظم تھے جبکہ کریو ممبر میں فرید احمد چوہدری، عبدالقیوم اشرف ، عصمہ شہزادی ،مدیحہ ارم، آمنہ عرفان ،ملک عرفان عملےمیں شامل تھے۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندہ ارباب چانڈیو کے مطابق طیارہ گرنے کے باعث گھروں میں موجود لوگوں کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، متاثرہ گھر وں سےزخمیوں کو نکالا جارہا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے نمائندے شاہ نواز کے مطابق حادثے کی جگہ پر لاشیں اور زخمی ملبے کے نیچے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں ، لوگوں کو ریسکیو کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
Source : ARY News
22 May 2020






