
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث متعدد ملازمین بہتر مواقع کی تلاش کے بجائے اپنی موجودہ ملازمتوں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مالی دباؤ نے ملازمت تبدیل کرنے کو پہلے سے زیادہ خطرناک فیصلہ بنا دیا ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً 69 فیصد ملازمین نے کہا کہ مالی دباؤ ان کے موجودہ عہدے پر برقرار رہنے کے فیصلے پر اثر انداز ہوتا ہے۔ امارات میں ملازمت صرف تنخواہ کا ذریعہ نہیں بلکہ ویزا، خاندان کی رہائش اور بچوں کی تعلیم سے بھی جڑی ہوتی ہے۔
دبئی میں کام کرنے والے کئی غیر ملکی ملازمین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں رہائش، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ تنخواہوں اور الاؤنسز میں اسی رفتار سے اضافہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بہت سے افراد صرف اپنا موجودہ معیارِ زندگی برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کر رہے ہیں۔
انسانی وسائل کے ماہرین کے مطابق ملازمین اب نئی ملازمتوں کے مواقع کا جائزہ لیتے وقت پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط برت رہے ہیں۔ بہت سے پیشہ ور افراد ترقی کے مواقع کے باوجود نوکری تبدیل کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں ویزا، بچوں کی تعلیم اور خاندانی استحکام سے متعلق خدشات لاحق رہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملازمین اب صرف اچھی تنخواہ نہیں بلکہ ملازمت کے تحفظ، کیریئر میں ترقی، لچکدار ماحول اور خاندان کے لیے سہولیات کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔ بعض امیدوار آخری مرحلے میں نئی پیشکشیں مسترد کر کے موجودہ ملازمت میں رہنے کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملازمین صرف مالی خوف کے باعث اپنی موجودہ نوکریوں میں رہیں تو اس سے اداروں میں تخلیقی صلاحیتوں اور جدت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اداروں کو صرف ملازمین کو روکنے کے بجائے انہیں ترقی اور وابستگی کی حقیقی وجوہات فراہم کرنا ہوں گی۔
یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ملازمت اب صرف روزگار نہیں بلکہ زندگی کے کئی بنیادی پہلوؤں کی ضمانت بن چکی ہے، جس کے باعث لوگ بہتر مواقع کے باوجود محتاط فیصلے کر رہے ہیں۔







