خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا اور مہنگا ترین امیگریشن منصوبہ متعارف کرادیا، جس کے تحت روایتی گرین کارڈ کا ایک پریمیم ورژن "گولڈ کارڈ” کے نام سے فروخت کیا جائے گا۔ اس کارڈ کی قیمت 5 ملین ڈالر رکھی گئی ہے اور اسے خریدنے کے لیے مالدار غیر ملکی شہری، بشمول روسی شہری، بھی اہل ہوں گے۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یہ نیا گولڈ کارڈ امریکی معیشت میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔
ان کا کہنا تھا، "ہم ایک ایسا راستہ کھول رہے ہیں جس کے ذریعے صرف امیر اور کامیاب افراد امریکہ کا حصہ بن سکیں گے۔ اس کارڈ کی فروخت سے قومی خسارے میں کمی آئے گی اور معیشت مزید مستحکم ہوگی۔”
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت آئندہ دو ہفتوں میں کارڈ کی فروخت کا آغاز کردیا جائے گا اور ان کی حکومت کا ہدف کم از کم ایک ملین گولڈ کارڈز فروخت کرنا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، صدر ٹرمپ نے یہاں تک تجویز دی ہے کہ ان "گولڈ کارڈز کو ان کے نام سے بھی منسوب کیا جا سکتا ہے” تاکہ یہ ان کی حکومت کے ایک منفرد منصوبے کے طور پر یاد رکھا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے اقدام سے امیگریشن پالیسی میں ایک بڑا اور متنازعہ موڑ آئے گا، جہاں امریکی شہریت صرف ان افراد کے لیے قابل رسائی ہوگی جو بہت زیادہ سرمایہ رکھتے ہیں۔
ناقدین نے اس منصوبے کو "امیگریشن کو ایک تجارتی پراڈکٹ بنانے” کے مترادف قرار دیا ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے حامی اسے "امریکی معیشت کے لیے ایک انقلابی قدم” کہہ رہے ہیں۔







