
خلیج اردو
اسلام آباد، 6 مارچ – وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑ رہا ہے اور ایک دہشت گرد کو امریکا کے حوالے کرنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ بین الاقوامی ذمہ داری پوری کرنے کا حصہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ جنگ میں سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
نشریاتی ادارے اوصاف کے مطابق خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ، بانی پی ٹی آئی اور جنرل فیض نے طالبان کو پاکستان میں بسانے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے نتائج آج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جنگ درحقیقت دہشت گردی کے خلاف نہیں تھی۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان میں دراندازی امریکی اسلحے کے باعث ہو رہی ہے اور امریکی صدر خود اعتراف کر چکے ہیں کہ انہیں افغانستان میں اسلحہ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ انہوں نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی اور وہاں کی حکومت صرف جرگہ جرگہ کھیل رہی ہے۔
پی ٹی آئی سے مفاہمت کے امکان پر سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ کیا انہوں نے مفاہمت کے لیے کوئی گنجائش چھوڑی ہے؟ بانی پی ٹی آئی مشوروں سے بالاتر ہیں، انہیں جادو منتر کا مشورہ دیا جا سکتا ہے، سیاسی مشورہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے خطوط کا جو حشر ہوا، اب بھی وہی ہوگا۔ تین سے چار مرتبہ یہ وفاق پر حملہ کر چکے ہیں اور اب عید کے بعد دوبارہ حملے کی بات کر رہے ہیں، لہٰذا مفاہمت کے بجائے اب مزاحمت کی سیاست ہوگی۔






