
خلیج اردو
اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں بنچز کی تبدیلی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے، جب کہ قائم مقام چیف جسٹس کے اختیارات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ عدالت نے اس حوالے سے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالتی فیصلے میں ڈپٹی رجسٹرار کو ہدایت کی گئی ہے کہ بنچ کی تبدیلی کے معاملے میں عدالتی گائیڈ لائنز پر سختی سے عمل کیا جائے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بغیر قانونی جواز کے کیسز کو سنگل بنچ سے ڈویژن بنچ میں منتقل نہ کیا جائے، اور قائم مقام چیف جسٹس کی ہدایت پر منتقل کیے گئے کیسز کو واپس متعلقہ بنچز کو بھیجا جائے۔
عدالت نے مزید کہا ہے کہ ڈپٹی رجسٹرار کو کیسز مارک کرنے میں ہائیکورٹ رولز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ہائیکورٹ رولز اینڈ آرڈرز کے مطابق کیسز کو سنگل یا ڈویژن بنچز کے سامنے فکس کرنے کا اختیار صرف ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو حاصل ہے، جبکہ چیف جسٹس کا اختیار صرف روسٹر کی منظوری تک محدود ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈپٹی رجسٹرار کو کسی کیس کو واپس لینے یا کسی اور بنچ کے سامنے مقرر کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ آصف زرداری کیس کے حوالے سے عدالتی نظیر دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ طے شدہ اصول ہے کہ جج خود فیصلہ کرے گا کہ وہ کیس سنے گا یا نہیں، اور صرف اسی صورت میں بنچ کی دوبارہ تشکیل ممکن ہے جب موجودہ بنچ خود وجوہات کے ساتھ معذرت کرے یا دوبارہ تشکیل کی درخواست دے۔






