
خلیج اردو
امریکا کی سپریم کورٹ نے 30 جون 2026 کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ امریکا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ پیدائش کے وقت امریکی شہریت کا حق دار ہوگا، چاہے اس کے والدین غیر قانونی طور پر ملک میں موجود ہوں یا عارضی ویزے پر مقیم ہوں۔
عدالت نے سابق صدارتی حکم نامہ ایگزیکٹو آرڈر 14160 کو کالعدم قرار دیا، جس کے تحت بعض غیر امریکی والدین کے ہاں امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کی خودکار شہریت محدود کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی آئین کی چودھویں ترمیم پیدائش کی بنیاد پر شہریت کی ضمانت دیتی ہے اور یہ اصول جس سولی (جائے پیدائش کی بنیاد پر شہریت) پر قائم ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ والدین کی امیگریشن حیثیت، رہائش یا وفاداری کو شہریت کے حق سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین میں ایسی کسی پابندی کی گنجائش موجود نہیں، اس لیے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو امریکی شہریت دینے کا آئینی اصول بدستور برقرار رہے گا۔







