متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں ایمریٹس شناختی کارڈ کی غیر ضروری شیئرنگ فراڈ کا سبب بن سکتی ہے، ماہرین نے شہریوں کو خبردار کر دیا

خلیج اردو

متحدہ عرب امارات میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایمریٹس شناختی کارڈ صرف شناختی دستاویز نہیں بلکہ حساس ذاتی اور حیاتیاتی معلومات کا ذخیرہ ہے، جس کی غیر ضروری نقول یا تصاویر شیئر کرنا فراڈ، شناختی جعلسازی اور مالی دھوکے کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق خطرہ صرف منظم جرائم سے نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولات سے بھی شروع ہوتا ہے، جب دکانوں، ڈیلیوری مراکز یا دیگر خدمات فراہم کرنے والے ادارے ایمریٹس شناختی کارڈ کی نقل یا تصویر طلب کرتے ہیں۔ اگر یہ معلومات غیر محفوظ طریقے سے محفوظ یا شیئر کی جائیں تو ان کا غلط استعمال ممکن ہے۔

اماراتی حکام نے شہریوں اور رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ ایمریٹس شناختی کارڈ صرف قانونی ضرورت یا مجاز اداروں کو ہی فراہم کریں۔ قوانین کے مطابق نجی ادارے قانونی اختیار کے بغیر شناختی کارڈ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے اور نہ ہی اسے رعایت، انعام یا ضمانت کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے بتایا کہ شناختی معلومات کے غلط استعمال سے سم کارڈ کی غیر قانونی منتقلی، جعلی شناختی تصدیق، مالیاتی فراڈ اور آن لائن اکاؤنٹس پر قبضے جیسے جرائم کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ یا دیگر غیر محفوظ ذرائع سے شناختی کارڈ کی تصاویر بھیجنے سے گریز کیا جائے اور جہاں ممکن ہو دستاویز کی نقل دینے کے بجائے یو اے ای پاس کے ذریعے شناخت کی تصدیق کی جائے۔

ماہرین نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اگر شناختی کارڈ کی نقل دینا ناگزیر ہو تو اس پر تاریخ، مقصد اور واٹر مارک درج کیا جائے، جبکہ اسے بینکنگ معلومات یا ایک بار استعمال ہونے والے تصدیقی کوڈز کے ساتھ ہرگز شیئر نہ کیا جائے۔ ان احتیاطی تدابیر سے شناختی معلومات کے غلط استعمال کے خطرات نمایاں طور پر کم کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button