خلیج اردو
نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2 اپریل کو متعارف کروائے گئے نئے اور وسیع پیمانے پر نافذ کیے گئے ٹیرف نے عالمی منڈیوں میں شدید ردِ عمل کو جنم دیا۔
ابتدا میں سرمایہ کاروں نے FOMO (موقع گنوانے کے خوف) کے تحت سرمایہ کاری کی، لیکن جلد ہی یہ کیفیت FOSI (سرمایہ کاری جاری رکھنے کے خوف) میں بدل گئی۔ مارکیٹ کی اتار چڑھاؤ کی علامت VIX انڈیکس چند دنوں میں 15 سے بڑھ کر تقریباً 60 تک جا پہنچا۔
یہ صورتحال ایک بار پھر اس کہاوت کو درست ثابت کرتی ہے: "جب امریکہ کو چھینک آتی ہے تو دنیا کو زکام ہو جاتا ہے”، تاہم اس بار چھینک خود ساختہ ہے۔ ٹیرف کے نفاذ کا انداز اور شدت سرمایہ کاروں کے لیے حیران کن تھی۔ ناقدین اسے خود کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دے رہے ہیں، جبکہ حامیوں کے مطابق یہ اقدام امریکی اقتصادی خودمختاری کی بحالی کی علامت ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ مندی کی صورتحال 2008 کے عالمی مالیاتی بحران سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے بجائے 2020 کی وبا کے دوران پیدا ہونے والی مندی کے۔ عالمی بحران کے دوران بھی مارکیٹ میں خطرات کے واضح اشارے موجود تھے جنہیں کئی ماہرین نظرانداز کرتے رہے۔
عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیوں کو روکنے والے یہ نئے ٹیرف صرف معیشت کو ہی نہیں، بلکہ سیاسی میدان کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ چار عوامل اس منظرنامے کو تشکیل دے رہے ہیں:
-
افراطِ زر کی بڑھتی ہوئی توقعات،
-
سرمایہ کاروں کا متزلزل اعتماد،
-
صنعتوں پر وسیع اثرات،
-
اور صنعتکاروں کی طرف سے دباؤ کے باوجود محدود تاخیر، صرف چین کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی اور آٹوموبائل سے لے کر بینکاری شعبہ تک، متعدد کمپنیاں دباؤ میں ہیں۔ ایپل جیوپالیٹکس کی زد میں ہے، ٹیسلا پیچھے ہٹ رہی ہے، اور بینکوں کے شیئرز خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ معروف ماہر معیشت نوریل روبینی نے اس صورتحال کو ایک "چکن گیم” قرار دیا ہے، جس میں ٹرمپ، فیڈ کے سربراہ جیروم پاول اور چین کے صدر شی جن پنگ میں سے کوئی بھی پہل نہیں کر رہا۔
بالآخر، ٹرمپ کو عالمی دباؤ کے سامنے جھکنا پڑا، خاص طور پر جب جے پی مورگن کے سی ای او جیمی ڈائمن نے ممکنہ کساد بازاری کی تنبیہ کی، اگرچہ ان کا پیغام صدر کے لیے براہ راست نہ تھا۔
سرمایہ کاروں کے لیے تجویز یہی ہے کہ:
-
جذباتی فیصلوں سے گریز کریں
-
سرمایہ کاری کو متنوع رکھیں
-
معیاری اور باآسانی فروخت ہونے والے اثاثوں کو ترجیح دیں
-
نقدی کو اہمیت دیں اور امریکی ٹریژری بانڈز میں معقول منافع حاصل کریں
-
طویل مدتی حکمت عملی اپنائیں، جیسے ETF یا فعال فنڈز کے ذریعے موزوں شعبوں میں سرمایہ کاری
وارن بفیٹ نے کہا تھا کہ ایسے وقتوں میں ہمیں رڈیارڈ کپلنگ کی نظم "If” کو یاد رکھنا چاہیے، جو حوصلے، صبر اور خوداعتمادی کا پیغام دیتی ہے۔







