متحدہ عرب امارات

واٹس ایپ یوزر نیم فیچر کے غلط استعمال پر خدشات، میٹا نے نئے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات جاری کر دیں، جعلسازی اور فراڈ روکنے کے لیے متعدد حفاظتی پرتیں شامل

خلیج اردو
میٹا نے واٹس ایپ کے متوقع یوزر نیم فیچر سے متعلق سیکیورٹی خدشات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے نظام میں جعلسازی، فراڈ اور غیر ضروری رابطوں سے بچانے کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔

کمپنی نے حال ہی میں صارفین کو اپنی پسند کے یوزر نیم محفوظ کرنے کی سہولت دینا شروع کی ہے، تاہم یوزر نیم کے ذریعے پیغامات بھیجنے کا فیچر ابھی فعال نہیں ہوا۔ توقع ہے کہ اسے رواں سال مرحلہ وار متعارف کرایا جائے گا۔

میٹا کے ترجمان کے مطابق، "جب کوئی شخص پہلی بار یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کرے گا تو صارف کو اضافی معلومات دکھائی جائیں گی، جن میں یہ شامل ہوگا کہ آیا بھیجنے والا نیا اکاؤنٹ ہے، کیا وہ پہلے سے رابطوں کی فہرست میں موجود ہے، کیا دونوں کسی مشترکہ گروپ میں شامل ہیں، اور آیا بھیجنے والا کسی دوسرے ملک میں موجود ہے۔”

کمپنی کا کہنا ہے کہ ان معلومات کی مدد سے صارف بہتر فیصلہ کر سکے گا کہ نامعلوم شخص کو جواب دینا چاہیے یا نہیں۔

میٹا کے مطابق عوامی شخصیات، سرکاری اداروں، معروف شخصیات اور تصدیق شدہ میٹا اکاؤنٹس سے متعلق اہم یوزر نیم پہلے ہی محفوظ کر لیے گئے ہیں تاکہ صرف اصل مالکان ہی انہیں استعمال کر سکیں۔ اسی طرح مشابہ نام بھی محدود کیے جا رہے ہیں، جبکہ واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے فون نمبر بدستور لازمی ہوگا۔

ترجمان نے مزید کہا، "ہم نے فراڈ سے بچاؤ کے لیے کئی حفاظتی پرتیں شامل کی ہیں۔ کسی صارف سے رابطے کے لیے درست یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہوگا، نئے اکاؤنٹس کی جانب سے رابطوں کی تعداد محدود ہوگی، یوزر نیم کا اندازہ لگانے کی بار بار کوششیں روکی جائیں گی، جبکہ جعلسازی اور بدسلوکی کی سرگرمیوں کی نشاندہی کر کے انہیں ختم کرنے کا نظام بھی موجود ہوگا۔”

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یوزر نیم فیچر صارفین کی رازداری بہتر بنائے گا کیونکہ فون نمبر شیئر کیے بغیر رابطہ ممکن ہوگا، تاہم مشابہ یوزر نیم استعمال کرکے دھوکا دہی کی کوششوں کا خدشہ اب بھی موجود رہے گا، خصوصاً جعلی کاروباری اداروں، بینکوں، کورئیر کمپنیوں یا صارف معاونت کے نام پر۔

یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ میٹا یوزر نیم فیچر متعارف کرانے کے ساتھ رازداری اور سیکیورٹی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button