
خلیج اردو
اسلام آباد: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاہی دربار نہیں بلکہ آئینی عدالتیں ہیں، اور اگر کیسز نہیں سنے جا سکتے تو عدالتوں کو گھر جانا چاہیے۔ انہوں نے 26 ویں آئینی ترمیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کا سب سے خوبصورت پہلو جوڈیشری کا احتساب ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچستان اور سندھ سے ججز آئے ہیں، جس سے ہائیکورٹ میں مزید رنگینی آئی ہے۔ ججز کی ٹرانسفر پر فیصلے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے، اور ان کے منتخب کرنے کے بعد وزیر اعظم پاکستان اس معاملے کو دیکھیں گے۔ صدر مملکت کے دستخط سے دوسرے صوبوں سے ججز وفاق میں تعینات ہوں گے۔
وزیر قانون نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ دوسرے صوبوں سے اسلام آباد میں ججز تعینات نہیں ہو سکتے۔ وکلاء کے احتجاج سے دہشت گردی ایکٹ کا کیا تعلق ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جو کبھی مشرف دور میں بھی نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں عدالتوں سے مزید اچھی خبریں آئیں گی۔






