متحدہ عرب امارات

دبئی میں دوسرے شخص کے بینک کارڈ سے غیر مجاز ڈیجیٹل ادائیگیاں کرنے پر خاتون کو قید، جرمانہ اور ملک بدری کی سزا

خلیج اردو
دبئی کی جنح عدالت نے ایک یورپی خاتون کو دوسرے شخص کے بینک کارڈ کی معلومات غیر قانونی طور پر استعمال کر کے رقم حاصل کرنے کے جرم میں ایک ماہ قید، 18 ہزار 750 درہم جرمانے اور سزا مکمل ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات سے ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت کے مطابق مقدمہ متحدہ عرب امارات کے سائبر جرائم اور افواہوں کے انسداد سے متعلق وفاقی فرمانی قانون نمبر 34 برائے 2021 کے تحت درج کیا گیا، جس میں کسی دوسرے شخص کے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ، الیکٹرانک ادائیگی کے ذرائع یا ان کے ڈیٹا کو مالک کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق خاتون نے جان بوجھ کر دوسرے شخص کے ادائیگی کارڈ کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے اپنی ذاتی مالی منفعت کے لیے غیر مجاز لین دین کیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ تمام شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ٹرانزیکشنز کارڈ ہولڈر کی اجازت یا علم کے بغیر انجام دی گئیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں خاتون کو ایک ماہ قید کی سزا سنائی، غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقم کے برابر 18 ہزار 750 درہم جرمانہ عائد کیا، جرم میں استعمال ہونے والا موبائل فون ضبط کرنے کا حکم دیا اور سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں ملک بدر کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

حکام نے ایک بار پھر عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے بینک کارڈ کی تفصیلات، پن نمبر یا ایک بار استعمال ہونے والا تصدیقی کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ مشکوک لین دین کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ بینک کو اطلاع دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

بینکوں نے صارفین کو فوری ٹرانزیکشن الرٹس فعال رکھنے، اپنے اکاؤنٹس کا باقاعدگی سے جائزہ لینے، محفوظ ادائیگی پلیٹ فارمز استعمال کرنے اور حساس مالی معلومات غیر محفوظ ویب سائٹس یا آلات پر محفوظ نہ رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔

یہ فیصلہ اس بات کی واضح یاد دہانی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کسی دوسرے شخص کے بینک کارڈ یا الیکٹرانک ادائیگی کی معلومات کا غیر مجاز استعمال سنگین مجرمانہ جرم ہے، جس کی سزا قید، بھاری جرمانہ اور غیر ملکی افراد کے لیے ملک بدری بھی ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button