متحدہ عرب امارات

یو اے ای میں اے لیول نتائج پر طلبہ اور والدین کے تحفظات، ماہرینِ تعلیم نے پورٹ فولیو نظام کو منصفانہ قرار دے دیا

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں ہزاروں طلبہ کو رواں سال اے لیول کے نتائج روایتی امتحانات کے بجائے پورٹ فولیو آف ایویڈنس سسٹم کے تحت جاری کیے گئے، جس پر بعض طلبہ اور والدین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپریل میں کیمبرج، پیئرسن ایڈ ایکسل اور آکسفورڈ اے کیو اے نے سیکیورٹی خدشات کے باعث یو اے ای میں مئی اور جون 2026 کے آئی جی سی ایس ای اور اے لیول امتحانات منسوخ کر دیے تھے۔

اس کے بعد طلبہ کی تشخیص کورس ورک، داخلی اسیسمنٹس اور پورے تعلیمی سال کے دوران مکمل کیے گئے کام پر مشتمل پورٹ فولیو کے ذریعے کی گئی۔

جی ای ایم ایس نیو ملینیم اسکول کی پرنسپل فاطمہ مارٹن کے مطابق پورٹ فولیو کے ذریعے جاری کیے گئے نتائج طلبہ کی سال بھر کی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں اور بیشتر طلبہ کے گریڈز متوقع نتائج کے قریب رہے۔

تاہم بعض والدین اور طلبہ نے نتائج کو غیر متوقع اور سخت قرار دیا۔ کچھ طلبہ کا کہنا تھا کہ محدود وقت میں شواہد جمع کرنے کے لیے انہیں معمول سے کہیں زیادہ محنت کرنا پڑی جبکہ انہیں یہ بھی واضح نہیں تھا کہ امتحانی بورڈ ان کے کام کی جانچ کس معیار پر کر رہا ہے۔

ایک طالب علم نے کیمبرج کے طریقہ کار کو سخت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیئرسن ایڈ ایکسل نے پہلے دیے گئے امتحانات کی بنیاد پر بہتر گریڈنگ کا آپشن دے کر زیادہ مناسب طریقہ اختیار کیا۔

دوسری جانب اسکول انتظامیہ نے پورٹ فولیو نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ غیر معمولی حالات میں یہ طلبہ کی کارکردگی جانچنے کا بہترین ممکنہ طریقہ تھا۔

جی ای ایم ایس ویلنگٹن اکیڈمی سلیکون اویسس کے سیکنڈری پرنسپل اینڈی کائی فونگ نے کہا کہ طلبہ کے پورٹ فولیوز ان کی حقیقی کارکردگی کی درست عکاسی کرتے ہیں اور اسکول نتائج سے مطمئن ہیں۔

تعلیمی اداروں کے مطابق اس پورے عمل میں طلبہ، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ نے غیر معمولی محنت کی۔ صفا کمیونٹی اسکول میں 7 ہزار سے زائد شواہد جمع کرکے معیار کی جانچ کے بعد امتحانی بورڈز کو الیکٹرانک طور پر بھیجے گئے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ اس نظام نے امتحانی بورڈز کے معمول کے کام کا بڑا حصہ اسکولوں اور اساتذہ پر منتقل کر دیا، جس کے باعث اضافی محنت کرنا پڑی۔

طلبہ نے یہ بھی بتایا کہ نتائج کے باعث بعض افراد کو یونیورسٹی میں داخلے کی شرائط پوری نہ ہونے پر متبادل یونیورسٹیوں کا انتخاب کرنا پڑا جبکہ کچھ طلبہ اپنی یونیورسٹیوں سے داخلے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button