متحدہ عرب امارات

دبئی میں کرایہ ادا کرنے کے لیے قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی، فلیکسی رینٹ اسکیم متعارف

خلیج اردو
دبئی میں رہائشیوں کو گھر کا کرایہ ادا کرنے کے لیے بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے فلیکسی رینٹ پروگرام متعارف کرا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق نئی اسکیم کے تحت کرایہ دار ماہانہ، سہ ماہی یا ششماہی اقساط میں کرایہ ادا کر سکیں گے، جس سے ایک ہی بار بڑی رقم ادا کرنے کا دباؤ کم ہو جائے گا۔

رئیل اسٹیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بہت سے رہائشی سالانہ کرایہ ادا کرنے کے لیے ذاتی قرض یا کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے تھے، جس کے باعث انہیں اضافی سود بھی ادا کرنا پڑتا تھا۔

مرلن رئیل اسٹیٹ کے شریک بانی روہت بچانی کے مطابق فلیکسی رینٹ پروگرام کے ذریعے کرایہ داروں کو سالانہ کرایہ مختلف اقساط میں ادا کرنے کی سہولت ملے گی، جبکہ مجموعی کرایہ تبدیل نہیں ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم میں ادائیگی کے لیے رعایتی مدت، ادائیگی کے شیڈول میں تبدیلی، کارڈ کے ذریعے ادائیگی اور بعض صورتوں میں باؤنس ہونے والے چیکس کی فیس میں چھوٹ جیسی سہولتیں بھی شامل ہیں۔

اسپرنگ فیلڈ پراپرٹیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فاروق سید کے مطابق کرایے کی بڑی ابتدائی رقم نئے کرایہ داروں کے لیے ہمیشہ ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو ماہانہ تنخواہ پر انحصار کرتے ہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی گھر کا سالانہ کرایہ ایک لاکھ درہم ہو تو دو یا چار چیکس کی صورت میں ابتدائی ادائیگی 25 ہزار سے 50 ہزار درہم تک ہو سکتی ہے، جس کا انتظام بہت سے افراد کے لیے مشکل ہوتا ہے۔

23 جون کو دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ نے فلیکسی رینٹ پروگرام کا آغاز کیا تھا، جبکہ ستمبر میں "رینٹ ناؤ، پے لیٹر” سروس بھی متعارف کرائی جائے گی، جس کے تحت کرایہ دار سالانہ کرایہ 12 ماہ تک بلا سود اقساط میں ادا کر سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اسکیم سے کرایوں میں نمایاں اضافہ متوقع نہیں، کیونکہ کرایوں کا تعین بدستور طلب، رسد، مقام اور پراپرٹی کے معیار کی بنیاد پر ہوگا۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ بعض مالکان زیادہ اقساط کی سہولت حاصل کرنے والے کرایہ داروں سے اضافی رقم وصول کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button