
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے سال 2026 کے دوران ویزا اور رہائشی اجازت ناموں سے متعلق متعدد اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد سیاحت، سرمایہ کاری اور طبی خدمات کو مزید سہل بنانا ہے۔
پہلی بڑی تبدیلی کے تحت ویزا آن ارائیول کی سہولت کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ پہلے یہ سہولت صرف اہل بھارتی شہریوں کے لیے دستیاب تھی، تاہم اب انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری بھی مخصوص شرائط کے تحت 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ سنگاپور، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کی رہائش رکھنے والے اہل افراد بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
دوسری تبدیلی کے مطابق دبئی آنے والے سیاح اب مجاز سیاحتی دفاتر یا دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز کے ذریعے درخواست دے کر 48 گھنٹوں کے اندر سنگل انٹری سیاحتی ویزا حاصل کر سکتے ہیں، جو 30 سے 60 روز تک مؤثر ہوگا۔
تیسری اہم تبدیلی جائیداد میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے ہے۔ دو سالہ رہائشی ویزا کے حصول کے لیے انفرادی سرمایہ کار پر سات لاکھ پچاس ہزار درہم مالیت کی جائیداد کی سابقہ شرط ختم کر دی گئی ہے، تاہم درخواست گزار کا جائیداد کا واحد مالک ہونا ضروری ہوگا۔ مشترکہ ملکیت کی صورت میں ہر شریک کی ملکیتی مالیت کم از کم چار لاکھ درہم ہونی چاہیے۔
چوتھی تبدیلی کے تحت فضائی پروازوں میں تعطل کے باعث اوور اسٹے جرمانے سے مستثنیٰ رہنے والے افراد کو 30 روز کی رعایتی مہلت دی گئی ہے۔ متعلقہ افراد کو 9 جولائی تک اپنا ویزا اسٹیٹس درست کرنا یا ملک چھوڑنا ہوگا۔
پانچویں تبدیلی کے مطابق دبئی میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں کے لیے اسمارٹ میڈیکل ویزا متعارف کرانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ویزا، رہائش اور طبی خدمات کو ایک مربوط نظام کے تحت فراہم کیا جائے گا۔
چھٹی تبدیلی کے تحت ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کے شہریوں کے لیے نئے ویزے جاری کرنا 6 جون 2026 سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق صحت کی صورتحال کے مطابق اس پابندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
یہ نئی ویزا اصلاحات متحدہ عرب امارات کی جانب سے سیاحتی سہولتوں، سرمایہ کاری کے فروغ اور عوامی صحت کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔







