
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ 15 سال سے کم عمر بچوں پر ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے یا چلانے پر پابندی ہوگی، تاہم ایسے بچے والدین یا سرپرست کے زیرِ انتظام اکاؤنٹ کے ذریعے اپنی تخلیقی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔
یکم جولائی کو کابینہ کے نئے فیصلے سے متعلق بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچے اپنے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ نہیں بنا سکتے، نہ ہی اسے خود چلا یا استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم والدین اپنے اکاؤنٹ سے بچوں کی ویڈیوز یا دیگر مثبت اور مفید مواد شائع کر سکتے ہیں۔
حکام نے ایک کم عمر کانٹینٹ کریئیٹر کے سوال کے جواب میں کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ بچے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو جاری رکھیں، لیکن ان کی عمر کے مطابق محفوظ طریقے سے۔” انہوں نے واضح کیا کہ قانون بچوں کو مواد تخلیق کرنے سے نہیں روکتا بلکہ صرف ان کے ذاتی اکاؤنٹ کے استعمال پر پابندی عائد کرتا ہے۔
حکام کے مطابق اگر کسی بچے کا پہلے سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ موجود ہے اور اس کے بڑی تعداد میں فالوورز بھی ہیں، تو پلیٹ فارمز کو دی گئی 12 ماہ کی عبوری مہلت کے بعد ایسے اکاؤنٹس بند کرنا یا والدین کے انتظام میں منتقل کرنا ہوگا۔ تاہم اکاؤنٹ کی منتقلی کا طریقہ کار متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی داخلی پالیسی کے مطابق ہوگا۔
مزید یہ بھی واضح کیا گیا کہ صرف والدین کی اجازت اس پابندی سے استثنا نہیں دیتی۔ قانون کے تحت 15 سال سے کم عمر بچے صرف والدین یا سرپرست کے مکمل کنٹرول میں موجود اکاؤنٹ کے ذریعے ہی سوشل میڈیا پر نظر آ سکتے ہیں۔
ٹیلی کمیونی کیشنز اینڈ ڈیجیٹل گورنمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل، انجینئر ماجد سلطان المسمار نے کہا، "اس فیصلے کا مقصد ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگانا نہیں بلکہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔”
یہ نیا ضابطہ بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو والدین کی نگرانی میں فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔






