
خلیج اردو
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر فوجی عدالتوں کو عدالتیں کہا جا سکتا ہے تو پھر آئین کا آرٹیکل 175 واحد آرٹیکل ہے جو عدالتوں کو جواز فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی ملزم اپیل میں جا کر یہ کہے کہ اسے منصفانہ ٹرائل نہیں ملا تو پھر کیا ہوگا؟
وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کے مقدمات، خصوصاً محرم علی اور لیاقت حسین کیسز میں واضح کیا گیا کہ کورٹ مارشل کا اطلاق آرٹیکل 175 پر نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ جس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی، اس میں بھی یہی مؤقف اختیار کیا گیا کہ فوجی عدالتیں آئینی آرٹیکل 175 کے دائرہ کار میں نہیں آتیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ آرٹیکل 142 کے تحت وفاقی حکومت کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے، اور اسی اختیار کے تحت فوجی عدالتوں سے متعلق قانون تشکیل دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 1956 اور 1962 کے دساتیر میں بھی یہ اختیار موجود تھا، جبکہ تب آرٹیکل 175 اور موجودہ آئین 1973 بھی نافذ نہیں تھا۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فوجی عدالتیں باقاعدہ عدالتیں ہیں جو مخصوص دائرہ اختیار کے تحت فوجداری مقدمات کی سماعت کرتی ہیں، اور 9 مئی کے 105 ملزمان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوا جن میں سے کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ انہیں منصفانہ ٹرائل کا حق نہیں ملا۔
اس موقع پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ اگر وہ ایسا کہتے بھی تو کہاں جاتے؟ لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ خود بہت کچھ کہتا ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے، جبکہ آئندہ سماعت 28 اپریل کے بعد مقرر کی جائے گی۔







