عالمی خبریںپاکستانی خبریں

پاکستان ہر ممکن دفاعی ردعمل دینے کی پوزیشن میں ہے،پہلگام حملے پر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا نامناسب ہے، خواجہ آصف

خلیج اردو
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہے اور اس کی سیکیورٹی فورسز ہر جگہ دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر دہشت گردی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان جیسا ملک دہشت گردوں کی پشت پناہی نہیں کر سکتا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کر کے اس کا ملبہ پاکستان پر ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ دہشت گردی کی مکمل مذمت کی جا سکے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سات لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود اگر بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارتی فوج وہاں کیا کر رہی ہے؟

انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور سہولت کاروں کو تلاش کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کی جانب سے کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو پاکستان ہر ممکن دفاعی ردعمل دینے کی پوزیشن میں ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب فضائی حدود کی خلاف ورزی کی گئی تھی تو سب کو علم ہے کہ ابھی نندن کے ساتھ کیا ہوا۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ایک شخص چند دن قبل پاکستانی سرحد پر پکڑا گیا ہے، جس سے بھارتی روابط کے شواہد ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کو بھارت نے پناہ دی ہوئی ہے اور وہ بھارت میں علاج بھی کرواتے ہیں، جو ریکارڈ کا حصہ ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے سرپرستی اور مالی معاونت ہوتی رہی ہے اور اس کے واضح تانے بانے بھارت سے جُڑتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ بھارتی سرپرستی کے بغیر پاکستان میں دہشت گردی ممکن ہو سکتی ہے۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ دو سال پہلے کابل گیا تھا مگر اس کے نتائج خوشگوار نہیں نکلے تھے اور اس کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حال ہی میں افغانستان کے نائب وزیراعظم سے ملاقات کر کے واپس آئے ہیں اور امید ظاہر کی کہ اس دورے کے نتائج مثبت ہوں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات امن کی سمت میں بڑھیں گے۔

سیاسی حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ان کی نواز شریف سے تقریباً پونے دو گھنٹے ملاقات ہوئی، جب کہ رانا ثناءاللہ کے پیپلز پارٹی سے رابطے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button