متحدہ عرب امارات

خوف اور غیریقینی صورت حال،کشمیر میں دہشتگرد حملے کے بعد 100 سے زائد اماراتی باشندوں نے سفری منصوبے منسوخ کر دیے

خلیج اردو
دبئی:
پہاڑوں، جھیلوں اور سرسبز وادیوں سے سجی کشمیر کی خوبصورتی کے خواب دیکھنے والے درجنوں اماراتی خاندانوں کو اس وقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب پاہلگام کے علاقے میں دہشتگردوں کے حملے میں 26 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد 100 سے زائد افراد نے کشمیر کے لیے اپنے طے شدہ سفری منصوبے منسوخ کر دیے۔

ابو ظہبی کی رہائشی آشا عبدالقادر، جنہوں نے اپنے 15 افراد پر مشتمل خاندان کے ساتھ 28 اپریل کو سات روزہ سفر کا ارادہ کیا تھا، نے بتایا کہ یہ فیصلہ نہایت دکھ اور صدمے کے ساتھ لینا پڑا۔ "ہم سب بہت پرجوش تھے، لیکن اب ہمیں نہ صرف اپنی چھٹیاں منسوخ کرنی پڑیں بلکہ فلائٹ اور ٹور پیکیج کی پالیسیز کے تحت مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا،” آشا نے خلیج ٹائمز سے گفتگو میں کہا۔

آشا کا کہنا تھا کہ یہ خبر ان کے لیے دل دہلا دینے والی تھی۔ "کشمیر ہر بھارتی کے خوابوں کی جگہ ہے، اور اگر یہ حملہ ایک ہفتے بعد ہوتا، تو ہم خود بھی متاثرین میں شامل ہو سکتے تھے،” انہوں نے مزید کہا۔

سیاحوں کو نشانہ بنانے والا حملہ
پاہلگام کے مشہور سیاحتی مقام پر بیک وقت تین مقامات پر دہشتگردوں نے فائرنگ کی جس میں 25 بھارتی اور ایک نیپالی باشندہ جاں بحق ہوا، جبکہ ایک بھارتی شہری دبئی میں مقیم تھا۔ حملے کا خاص ہدف سیاح تھے، جس سے علاقائی سیاحت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

80 سے زائد بکنگز منسوخ
"سمارٹ ٹریولز” نامی مقامی سفری ادارے کے نمائندے سفیر محمد کے مطابق، صرف ان کی ایجنسی نے پچھلے دو دنوں میں 80 سے زائد افراد کی ٹکٹیں منسوخ کیں۔ "ہم نے گرمیوں کے لیے ایک مہم شروع کی تھی جس میں کشمیری علاقوں کا قیام شامل تھا۔ لیکن موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں سارے پلان منسوخ کرنا پڑے۔”

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی سیاحت کے لیے ایک افسوسناک دھچکا ہے۔ "حالات بہتر ہو رہے تھے اور لوگ دوبارہ کشمیر کا رخ کر رہے تھے، لیکن اس حملے نے سب کچھ بدل دیا،” انہوں نے کہا۔

خوف اور غیر یقینی کی فضا
فوزیہ سمیر، جنہوں نے جولائی میں اپنے خاندان کے ساتھ کشمیر جانے کا ارادہ کیا تھا، بھی اب پیچھے ہٹ چکی ہیں۔ "اگرچہ ابھی تین ماہ باقی ہیں، لیکن میں کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی،” انہوں نے کہا۔ "یہ حملہ سیاحوں کو نشانہ بناتا ہے، اور میرا خیال ہے کہ اب طویل عرصے تک کوئی بھی خاندان وہاں جانے کی ہمت نہیں کرے گا۔”

فوزیہ کا کہنا تھا کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہیں جو سیاحت پر اپنا روزگار قائم رکھتے ہیں۔ "یہ ایک بے معنی سانحہ ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button