متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات اور بنگلہ دیش کے درمیان ویزہ نرمی پر بات چیت جاری، قونصل جنرل کا انٹرویو

خلیج اردو
دبئی – بنگلہ دیش کے قونصل جنرل محمد رشیدالزمان نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بنگلہ دیش کے درمیان ویزہ کی سہولت میں بہتری کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یو اے ای میں بنگلہ دیشی باشندوں کی تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے، جو ویزہ کے پیچیدہ مسائل کی وجہ سے مستحکم رہی ہے اور اس میں اضافہ نہیں ہو سکا۔

یہ گفتگو انہوں نے دبئی میں بنگلہ دیش کے 55 ویں یومِ آزادی اور قومی دن کی تقریب کے موقع پر "خلیج ٹائمز” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کی۔

قونصل جنرل نے کہا کہ بنگلہ دیشی پروفیشنلز مختلف صنعتوں اور کاروبار میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور متحدہ عرب امارات کی معیشت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ "ہم چاہتے ہیں کہ بنگلہ دیشی شہری یو اے ای کی کامیابی کی کہانی کا حصہ بنیں۔”

تقریب میں متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے دبئی دفتر کے سربراہ محمد البحری، متحدہ عرب امارات میں بنگلہ دیش کے سفیر طارق احمد اور تقریباً 300 مہمانوں نے شرکت کی جن میں دیگر ممالک کے سفارتکار بھی شامل تھے۔

محمد رشیدالزمان نے بتایا کہ قونصلیٹ نے بنگلہ دیشی شہریوں کے لیے کئی نئی قونصلر سہولیات کا آغاز کیا ہے، جن میں ہفتہ، اتوار اور جمعہ کو مختلف ریاستوں میں موبائل قونصلر خدمات شامل ہیں تاکہ وہ افراد جو قونصلیٹ نہیں آسکتے، ان کی سہولت کے لیے خدمات فراہم کی جا سکیں۔

قونصلیٹ کے اندر ایک ہیلپ ڈیسک بھی قائم کی گئی ہے تاکہ ان پڑھے لکھے کارکن جو معلومات کی کمی کے باعث بروکروں کا شکار ہوتے ہیں، انہیں درست رہنمائی دی جا سکے۔

اقتصادی شراکت داری پر بھی بات چیت
قونصل جنرل نے مزید بتایا کہ یو اے ای اور بنگلہ دیش کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (CEPA) پر بھی ابتدائی سطح پر مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم اس وقت تقریباً 1.5 ارب ڈالر ہے، تاہم اگر CEPA معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ تجارتی حجم کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتیں تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے قریبی تعاون کر رہی ہیں، اور یو اے ای سے آئی سی ٹی، قابل تجدید توانائی، بنیادی ڈھانچے، بندرگاہی سہولیات، زرعی مصنوعات اور حلال گوشت کی پروسیسنگ جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی امید ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button