پاکستانی خبریں

سندھ طاس معاہدے کی معطلی، ویزہ پالیسی میں ردوبدل اور فضائی حدود کی بندش: دفتر خارجہ کا سخت ردعمل

خلیج اردو
اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے اس اقدام سے خطے میں امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پانی روکنے کی کسی بھی کارروائی کو پاکستان ایک جنگی اقدام تصور کرے گا اور ایسی کسی بھی حرکت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پانی روکا تو پاکستان اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور مسلح افواج ہر ممکن اقدام کیلئے تیار کھڑی ہیں۔

مزید برآں، ترجمان نے اعلان کیا کہ سارک سکیم کے تحت بھارتی شہریوں کو جاری کیے گئے تمام ویزے معطل کر دیے گئے ہیں، تاہم سکھ یاتریوں کے ویزے اس معطلی سے مستثنیٰ ہوں گے تاکہ مذہبی ہم آہنگی اور عقائد کے احترام کو برقرار رکھا جا سکے۔

سیکیورٹی اقدامات کے تحت واہگہ بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کی فضائی حدود کو بھارتی پروازوں کے لیے بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سٹاف کی تعداد کم کر کے 30 کر دی گئی ہے، جو دوطرفہ کشیدگی کے پیش نظر ایک ناگزیر اقدام ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button