پاکستانی خبریں

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنگی اقدام قرار، بھارتی جارحیت پر آنکھ نکالنے کی وارننگ: اسحاق ڈار کا سینیٹ میں پالیسی بیان

خلیج اردو
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے بھارت کے حالیہ اقدامات پر سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ پاکستان کی فوج اور قیادت ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو "ہم آنکھ ہی نکال دیں گے”۔

اسحاق ڈار نے پہلگام واقعے کا الزام پاکستان پر ڈالنے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ ایسے الزامات غیر سنجیدہ اور اشتعال انگیز ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ بھارت کے معاندانہ اقدامات کے جواب میں پاکستان نے واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ بھارت کو دیے گئے سارک اسکیم کے تحت تمام ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں، اور بھارتی شہریوں کو جو ان ویزوں پر پاکستان میں موجود ہیں، 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تاہم سکھ یاتریوں کو اس فیصلے سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

اسحاق ڈار نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنگی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی سے جڑا ہے، اور بھارت کی طرف سے اس پر یکطرفہ کارروائی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ وہ معاہدہ ہے جس کے تحت پاکستان نے اپنے دو دریا بھارت کو دے دیے تھے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی وزیر خارجہ نے ان سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور ان کے ساتھ شام ساڑھے سات بجے بات چیت طے پا چکی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button