
خلیج اردو
ابوظہبی: قدرتی خوبصورتی کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری ہے کہ ابوظہبی میں اس ستمبر ایک نیا انٹریکٹو بٹر فلائی گارڈن کھولا جا رہا ہے، جہاں دس ہزار سے زائد تتلیاں موجود ہوں گی۔
یہ منفرد قدرتی ذخیرہ قومی ایکویریم ابوظہبی کے ساتھ القنا میں واقع ہو گا، جو نہ صرف سیاحت بلکہ تعلیم اور ماحولیات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس گارڈن کا مقصد فطری ماحول کی عکاسی کرتے ہوئے تتلیوں کے لیے ایسا محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے جہاں وہ افزائش اور بقا کے عمل کو بخوبی انجام دے سکیں۔
ابوظہبی بٹر فلائی گارڈن کے جنرل مینجر پال ہیملٹن نے کہا کہ یہ گارڈن صرف سیاحوں کے لیے تفریحی مقام نہیں بلکہ ایک مکمل قدرتی ذخیرہ ہوگا، جس کا مقصد ماحولیاتی نظام کی باہمی وابستگی کو اجاگر کرنا اور لوگوں میں فطرت سے جڑنے کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔
اس گارڈن میں زائرین کے لیے متعدد انوکھے تجربات رکھے گئے ہیں، جن میں ہزاروں تتلیوں کے ساتھ سبز و شاداب ٹراپیکل مناظر اور مختلف ماحولیاتی نظاموں کی عکاسی کرنے والے درجہ حرارت کنٹرول شدہ ڈومز شامل ہیں۔ ان ڈومز کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایشیا اور امریکاز۔
ایشیا ڈوم میں ایشیائی خطے سے تعلق رکھنے والی اقسام مثلاً طوطے، کوئ کارپ مچھلیاں اور مختلف حشرات رکھے جائیں گے۔ زائرین ان تتلیوں کے بیچ گھومتے ہوئے نہ صرف فطرت کے قریب آئیں گے بلکہ یادگار تصاویر بھی کھینچ سکیں گے۔
یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رواں ماہ ہی ابوظہبی کے سعدیات کلچرل ڈسٹرکٹ میں ٹیم لیب فینومینا کا افتتاح کیا گیا، جو ایک نیا ملٹی سنسری آرٹ تجربہ ہے۔







