پاکستانی خبریں

اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کر دی، مہنگائی میں کمی کو بنیاد قرار دے دیا

خلیج اردو
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود میں ایک فیصد کمی کر دی ہے، جس کے بعد نئی شرح سود 12 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد کر دی گئی ہے۔ مرکزی بینک نے مہنگائی کی شرح میں مسلسل کمی کو شرح سود میں کمی کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق اپریل میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر صرف 0.3 فیصد رہی، جب کہ غذائی اشیا اور توانائی کی قیمتوں میں گراوٹ نے بھی مہنگائی میں کمی کا رجحان برقرار رکھا۔ مارچ 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ 1 ارب 20 کروڑ ڈالر سرپلس میں رہا، جسے زری شعبے کے استحکام کی علامت قرار دیا گیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ زری پالیسی کا مجموعی موقف اب بھی محتاط رہے گا تاکہ مہنگائی کے خلاف حاصل کردہ کامیابیاں برقرار رکھی جا سکیں۔ پٹرولیم لیوی میں اضافے سے نان ٹیکس آمدن میں مزید بہتری کی توقع کی گئی ہے، جبکہ جون 2025 تک زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 14 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے امریکی ٹیرف کے اثرات کے پیش نظر دنیا بھر کی اقتصادی شرح نمو میں کمی کی پیشگوئی کی ہے، جس کا بالواسطہ اثر پاکستان کی معیشت پر بھی ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button