
خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری کی ضمانت کے کیس میں تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں استغاثہ کے مؤقف کو کمزور قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اعجاز چوہدری کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور بعد ازاں سپلیمنٹری بیان میں ان کا نام شامل کرنے میں تاخیر کی کوئی واضح اور معقول وضاحت نہیں دی گئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ اعجاز چوہدری کو ابتدائی طور پر 12 مئی کی ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا تھا، بلکہ انہیں بعد ازاں 10 جون کو سوشل میڈیا پر دستیاب مواد کی بنیاد پر مقدمے میں شامل کیا گیا۔
فیصلے کے مطابق اعجاز چوہدری پر سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے، مگر اس الزام کو عدالت میں ٹرائل کے دوران استغاثہ کو ثابت کرنا ہوگا، محض الزام کی بنیاد پر ضمانت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ ضمانت کو سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، اور اگر شواہد ناکافی ہوں یا قانونی تقاضے پورے نہ کیے گئے ہوں، تو ملزم کو ضمانت دینا ضروری ہو جاتا ہے۔






