پاکستانی خبریں

آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس ریلیف کی تیاری، تمام سلیب پر کمی کا امکان

خلیج اردو
اسلام آباد: وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، جس کے تحت تمام ٹیکس سلیب پر 2.5 فیصد تک کمی متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد مہنگائی سے متاثرہ شہریوں کو براہ راست ریلیف فراہم کرنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماہانہ 50 ہزار روپے آمدن رکھنے والے افراد کو مکمل ٹیکس چھوٹ دی جا سکتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ سالانہ چھوٹ کی حد 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کیے جانے کا امکان ہے۔ اس اقدام کے تحت 83 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ رکھنے والے افراد بھی انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہو سکتے ہیں۔

مزید تفصیلات کے مطابق:

  • ماہانہ ایک لاکھ روپے تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم ہوکر 2.5 فیصد ہو سکتی ہے۔

  • ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے پر شرح 15 فیصد سے کم ہوکر 12.5 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔

  • ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تنخواہ رکھنے والوں کے لیے شرح 25 فیصد سے کم ہوکر 22.5 فیصد ہو سکتی ہے۔

  • 3 لاکھ 33 ہزار روپے ماہانہ تک کی تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 30 فیصد کے بجائے 27.5 فیصد ہو سکتی ہے۔

  • 3 لاکھ 33 ہزار روپے سے زائد آمدن پر ٹیکس کی موجودہ شرح 37.5 فیصد سے کم ہوکر 35 فیصد ہو سکتی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کارپوریٹ سیکٹر کے لیے بھی انکم ٹیکس کی شرح میں 2.5 فیصد کمی پر غور کر رہی ہے، جبکہ سپر ٹیکس کی شرح میں 0.5 فیصد کمی کیے جانے کا امکان ہے۔

ان اقدامات سے قبل حکومت آئی ایم ایف سے باضابطہ بات چیت کرے گی تاکہ مجوزہ ٹیکس ریلیف کو عالمی مالیاتی ادارے کی منظوری حاصل ہو سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button